تحریر:مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی
ہندوستان کی تحریک آزادی میں علمائے کرام کی قربانیاں بے مثال ہیں،تاریخ اس پر گواہ ہے ،بلکہ یہ کہا جائے کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک علمائے کرام کی قربانیوں کے تذکرہ کے بغیر نامکمل ہے، تو بیجا نہ ہوگا۔
ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے بعد ان کے خلاف کسی میں آواز اٹھانے کی ہمت نہیں تھی، ان کے خلاف سب سے پہلے علمائے کرام نے آواز بلند کی اور ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دیں ، قیدوبند کی تکلیفوں کو جھیلا ، پھانسی کے پھندے کو مسکراکر گلے لگا لیا، کالاپانی کی سزا دی گئی، اس کو برداشت کیا۔ ہندوستان کی آزادی کے لئے علمائے کرام کی تحریک ۱۸۵۷ء سے پہلے شروع ہوئی، جبکہ آزادی کے لئے کوئی دوسری تحریک شروع نہیں ہوئی تھی ، یہ حقیقت ہے کہ دوسری تحریکوں کو بھی مسلمانوں ہی کے اشتراک سے تقویت حاصل ہوئی۔اس طرح ہندوستان کی آزادی مسلمانوں کی بالخصوص علمائے کرام کی رہین منت ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ وہ لوگ جوانگریزوںکے ساتھ سازش میں شریک تھے اور ملک کی آزادی کے خلاف تھے، وہی لوگ ملک کو آزادی دلانے والے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کررہےہیں، اکثریت اور اقلیت کا معاملہ اٹھاکر ملک کے ماحول کو پراگندہ کررہے ہیں۔ ایسے لوگ ملک کےخیرخواہ نہیں ہیں،بلکہ وہ اپنے عمل سے ملک کو دوبارہ غلامی کی طرف دھکیل رہے ہیں، یہ ملک کے تمام بسنے والوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
دیگر مجاہدین آزادی کی طرح علمائے کرام کی تعداد بہت زیادہ ہے، ان میں سے بہت سے علماء کے نام محفوظ ہیں اور بہتوں کے نام معلوم نہیں ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ جب کبھی مجاہدین آزادی کا نام لیا جاتا ہے کہ تو صرف چند نام ہماری زبان پر ہوتے ہیں، ان کے علاوہ دیگر مجاہدین آزادی کے نہ تو نام ہمیں معلوم ہیں اور نہ ان کے کارناموں سے ہم واقف ہیں، جب ہمیں معلوم نہیں تو نئی نسل کو اور کیا خبرہوگی؟ اس لئے اس کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے مجاہدین آزادی بالخصوص علمائے کرام کے اسمائے گرامی کو یاد کریں اور ان کی قربانیوں سے واقفیت حاصل کریں اور اپنی نئی نسل کے لوگوں کو واقف کرائیں ،تاکہ اپنے اکابر کے کارناموں کو جان کر ان میں حوصلہ پیدا ہو، اور وہ احساس کمتری کے شکار نہ ہوں۔ یقین جانئے جو قوم اپنے اکابر اورا ن کےکارناموں کو بھول جاتی ہے، وہ اپنا وجود کھودیتی ہے، قوم حوصلہ سے زندہ رہتی ہے، اس لئے ہمیں اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان ہمارا بھی ملک ہے اور ہم اس کے باوقار شہری ہیں، ملک میں آئین کی حکومت قائم ہے اور ملک کا آئین ہمیں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے جان ومال، عزت وآبرو اور مذہبی ، لسانی اور تعلیمی آزادی کے حقوق عطا کرتا ہے۔
۱۵؍ اگست ملک کی آزادی کی تاریخ ہے ، اس موقع پر ہم ملک کے آئین کی حفاظت کا عہد لیتے ہیں۔ اور اس موقع پر ہم ملک کے تمام شہداء اور مجاہدین آزادی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے ملک کو آزاد کرانے میں اپنی قربانیاں پیش کیں،
موجود وقت میں فرقہ پرست طاقتیں آزادی کو سلب کرنا چاہتی ہیں ، ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ملک کی آزادی اور اس کے آئین کی حفاظت کریں، ہمارا یہی عمل مجاہدین آزادی کو بہترین خراج عقیدت ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں حوصلہ عطا کرے کہ ہم ملک کی آزادی اور اس کے آئین کی حفاظت اور ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ لے کر اس کو آگے بڑھائیں۔








