نئی دہلی:قانونی امور سے متعلق ویب سائٹ لائیو لاءکے مطابق، NBDSA نے Times Now Navbharat کے حوالے سے سخت تبصرے کیے ہیں۔ اتھارٹی نے کہا کہ گربا سے متعلق ویڈیو کوچینلز سے فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔ شو کی میزبانی اینکر نویکا کمار نے کی ہے ۔ این بی ڈی ایس اے نے چینل کو متنبہ کرتے ہوئے
اپنی رپورٹس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اے کے سیکری کی سربراہی میں اتھارٹی نے کہا کہ ٹی وی چینل نے جرائم، فسادات، افواہوں کے حوالہ سے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ۔ اس لیے ٹائمز ناؤ نوبھارت چینل کی ویب سائٹ اور یوٹیوب سے ویڈیو کو ہٹانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مواد کو ہٹانے کی تصدیق NBDSA کو 7 دنوں کے اندر کرائی جائے۔
جسٹس (ر)سیکری کی قیادت والی اتھارٹی نے یہ حکم ٹیک ایتھکس پروفیشنل اندرجیت گھورپڑے کی شکایت پر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ شو نے پوری مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا اور نشریاتی معیارات کی خلاف ورزی کی۔ اسی نشریات کے حوالے سے ایک اور شکایت متین مجاور نے بھی درج کرائی تھی۔
لائیو لاء کے مطابق، دونوں شکایت کنندگان نے 29 ستمبر 2022 کو ٹائمز ناؤ نوبھارت پر نشر ہونے والے ایک شو کے بارے میں شکایت کی تھی۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ گربا پروگرام کے دوران بجرنگ دل کے ارکان نے ایک مسلم شخص پر جسمانی حملہ کیا تھا۔ چینل نے دعویٰ کیا کہ اس ایپی سوڈ میں ان واقعات کو اجاگر کرتے ہوئے عوامی تقریبات میں خواتین کی حفاظت پر توجہ مرکوز کی گئی تھی جہاں گربا ایونٹس میں شرپسندوں کی جانب سے خواتین کی نامناسب تصاویر کھینچی گئی تھیں۔
شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ چینل فرقہ وارانہ ایجنڈے کے ساتھ خبریں نشر کرکے نفرت پھیلا رہا ہے جس سے اقلیتوں اور ملک کے سیکولر تانے بانے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
چینل نے اپنے شو کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس طرح کے عوامی پروگراموں میں خواتین کی حفاظت کے بارے میں صرف جائز سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ چینل نے NBDSA کو اپنے جواب میں یہ بھی کہا کہ اس کا کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں ہے۔ چینل نے دعویٰ کیا کہ شکایات میں لگائے گئے الزامات ‘سیاق و سباق سے ہٹ کر اور بے بنیاد’ ہیں۔ لیکن اتھارٹی نے کہا کہ شو میں خواتین کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے فرقہ وارانہ رنگ تھا۔ اتھارٹی نے کہا کہ اینکر کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات اور چینل کے ٹکر میں استعمال کی گئی زبان سے فرقہ وارانہ جھکاؤ نظر آتا ہے۔








