عسکریت پسند فلسطینی گروپ حماس کے سیاسی ونگ کے نائب رہنما صالح العروری نے حماس کی جانب سے سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے گئے حملے کو عینی شاہدین کے بیان کے برعکس بیان کیا۔ العروری نے الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ”القسام بریگیڈز کا فوجی منصوبہ غزہ ڈویژن میں قابض اسرائیلی فوج کو نشانہ بنانا اور اس کے قابض فوجیوں سے لڑنے کا تھا اور ہمارے پاس اطلاع تھی کہ قابض فوج عبرانی تعطیلات کے بعد ہم پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔‘‘
حماس کو امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ ساتھ کئی دیگر ممالک نے بھی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ القسام بریگیڈز حماس کا عسکری بازو ہے۔ العروری نے کہا کہ سات اکتوبر کوالقسام بریگیڈز کے تقریباً 1200 ارکان غزہ سے نکل کر اسرائیل میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے حملے میں حصہ لیا۔
العروری نے اس بات کی تردید کی کہ حماس کے جنگجوؤں کی طرف سے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے اندر سے دوسرے ”شہریوں‘‘ نے بعد میں اسرائیلی سویلین باشندوں کے خلاف بدترین جرائم کا ارتکاب کیا۔ تاہم العروری نے یہ نہیں بتایا کہ اگر حماس کے خلاف اس طرح کے حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تو پھر غزہ کے قریب اتنے کم اسرائیلی فوجی کیوں تعینات کیے گئے تھے؟
القسام بریگیڈز کا ‘چھلاوا‘ لیڈر
العروری کا شمار القسام بریگیڈز کے بانیوں میں ہوتا ہے لیکن وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اصل رہنما محمد ضیف ہیں، جنہیں اکثر ایک ”چھلاوا‘‘ قرار دیا جاتا ہے اور وہ گزشتہ دو دہائیوں سے روپوش ہیں۔ ان کا نام اسرائیل کو ”انتہائی مطلوب‘‘ ملزمان کی فہرست میں درج ہے۔
محمد ضیف 2002 ء سے القسام بریگیڈز کے سربراہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل پر کئی ہائی پروفائل حملوں کے پیچھے انہی کا ہاتھ تھا۔ اسرائیلی فوج کے کئی ناکام قاتلانہ حملوں کے بعد انہیں جسمانی طور پر شدید معذور بھی سمجھا جاتا ہے۔
القسام بریگیڈز کی بنیاد 1992ء میں رکھی گئی تھی۔ سی آئی اے کی فیکٹ بُک کے مطابق القسام بریگیڈز کے پاس 20 ہزار سے 25 ہزار تک کے درمیان عسکریت پسند ہیں حالانکہ اس تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ناممکن ہے۔ اسی عسکری گروپ نے اس وقت غزہ پٹی کے علاقے میں 240 کے قریب اسرئیلی باشندوں اور دیگر ممالک کی شہریتوں کے حامل افراد کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔
اس مسلح ونگ کا نام ایک شامی عالم عزالدین القسام کے نام پر رکھا گیا ہے، جو 1882ء میں شام میں پیدا ہوئے تھے۔ القسام ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی مصلح بھی تھے، جو اس بات کے قائل تھےکہ یورپی استعماری طاقتوں کو مشرق وسطیٰ سے نکالنے کا واحد راستہ طاقت کا استعمال ہے۔ وہ 1935ء میں برطانوی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
القسام بریگیڈز غزہ پٹی کی زمین کے نیچے حماس کی سرنگوں کے وسیع تر نیٹ ورک کی تعمیر میں بھی شریک رہی ہے، جو ماضی میں اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔
2006ء میں حماس کے عسکریت پسندوں نے غزہ کی سرحد کے قریب اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو اغوا کرنے کے لیے سرنگوں کا استعمال کیا تھا۔ سن 2014 میں اسرائیلی فوج کے سات ہفتے طویل آپریشن کے دوران اس گروپ کے چار جنگجو تیرتے ہوئے ساحل پر پہنچےاور ایک اسرائیلی ٹینک پر حملہ کیا۔ یہ جنگجو اس کے بعد ہونے والی لڑائی میں مارے گئے تھے۔








