انوارالحق بیگ
نئی دہلی کے مہرولی میں 800 سال پرانی اخوند جی مسجد کو غیر قانونی طور پر مسمار کرنے کے بعد، دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اب دھولاکنوا ں میں ایک صدی سے زیادہ قدیم درگاہ،شاہی مسجد کنگال شاہ اور قبرستان کو بلڈوز کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ڈی ڈی اے نے ایک درخواست دائر کی ہے جس میں دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے 2 نومبر 2023 کو دی گئی مسجد کے خلاف کسی بھی بالجبر کارروائی کے خلاف روک ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
14 فروری کو ڈی ڈی اے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ڈی ڈی اے سے سوال کیا کہ وہ کس قانون کے تحت مسجد کو بلڈوز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ نجی جائیداد پر ہے۔
اس کے ساتھ ہی جسٹس سچن دتا کی سنگل جج بنچ نے دھولا کنواں میں کچنر جھیل، باغ موچی کے قریب واقع مسجد اور اس سے منسلک قبرستان کی انتظامی کمیٹی کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈی ڈی ای کی درخواست کے جواب میں 10 دن کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔
جسٹس دتا نے ڈی ڈی اے سے تجاوزات کے بارے میں بھی پوچھا اور کیا اس میں مسجد بھی شامل ہے اور اسے ہٹانے پر غور کرنے کی بنیاد کیا ہے۔ ڈی ڈی اے کو 29 فروری کو اگلی سماعت کے دوران وضاحت اور تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے، جج نے پوچھا، ‘مجھے صحیح طول و عرض بتائیں۔ آپ کیا ہٹانا چاہتے ہیں اور کیوں؟‘‘
مدرسہ کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے، ڈی ڈی اے کے وکیل نے ہائی کورٹ میں دلیل دی کہ اسے تحفظ نہیں دیا گیا ہے۔ جسٹس دتا نے تاہم پوچھا کہ کیا مدرسہ مسجد سے الگ ہے؟
اس سے قبل 2 نومبر 2023 کو جسٹس پرتیک جالان کی سنگل جج بنچ نے 2 نومبر کو ڈی ڈی اے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ 31 جنوری کو ہونے والی اگلی سماعت تک مسجد کے خلاف کوئی زبردستی کارروائی نہ کریں۔
1970 میں دہلی انتظامیہ کے نوٹیفیکیشن اور 1990 کی دہائی میں دہلی وقف بورڈ کے کمیونکشینس نے درگاہ کنگال شاہ ،مسجد اور قبرستان کی زمین کی ملکیت، مذہبی حیثیت اور استعمال کے حقوق کو تسلیم کیا تھا جو کم و بیش ایک سو سال سے زیادہ عرصے سے موجود ہیں۔
جے آئی ایچ کے نوجوان، فعال اسسٹنٹ سکریٹری انعام الرحمن نے جو اس سمیت وقف املاک کے تحفظ میں دل و جان سے سرگرم ہیں ، کہا کہ مسجد، مدرسہ، درگاہ اور قبرستان کو ڈی ڈی اے کے محکمہ باغبانی کی طرف سے مذہبی کمیٹی سے سفارش حاصل کرنے کے بہانے منہدم کرنے کا شدید خطرہ ہے۔
انہوں نے نے تصدیق کی کہ درگاہ کنگال شاہ پراپرٹی، جو ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے، ایک ایسی مذہبی جگہ ہے جس میں باقاعدگی سے تدفین کے ساتھ نماز جمعہ کا تسلسل سے اہتمام ہوتا ہے،انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ دہلی وقف بورڈ سے رجسٹرڈ ہے اور اسے غیر مجاز نہیں سمجھا جا سکتا،کیونکہ یہ گرین زون کے اندر نجی زمین پر قائم ہے۔دستاویزات کی بنیاد پر انعام الرحمن نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں مذہبی کمیٹی کی سفارش "اس کے دائرہ کار سے باہر اور ممکنہ طور پر غیر قانونی تھی۔”
انعام الرحمن خان نے کہا کہ مسجد کمیٹی نے انہدام کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیاہے۔ تاہم، خطرہ برقرار ہے ٹلا نہیں ہےکیونکہ ڈی ڈی اے قانونی نمائندگی کے ذریعے اس کو خالی کرانے مقصد کو جارحانہ طریقے سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

جائیداد کی حد بندی کرنے اور مسجد اور قبرستان کے گرد چاردیواری اور باڑ لگانے کی اجازت دینے والے حکومتی احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے ڈی ڈی اے پر زور دیا کہ وہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے براہ راست اختیار کے تحت، تاریخی مذہبی ڈھانچوں کو نشانہ بنانا بند کرے اور سابقہ احکامات کی تعمیل کرے۔ .
کنگال شاہ مسجد منیجنگ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری حاجی یونس جو کہ درخواست گزار ہیں اور 30 سال سے مسجد سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ مسجد، مدرسہ، درگاہ اور قبرستان پر مشتمل وقف املاک تقریباً 200 سال پرانی ہے اور یہ مسلسل استعمال میں ہے۔ مذہبی مقاصد کے لیے، جہاں نماز ادا کی جاتی ہے، اور تدفین علاقے کے مسلمان کرتے ہیں۔ مسجد کی تاریخ فراہم کرتے ہوئے حاجی یونس نے اسے مغلیہ دور کی مسجد کہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوفی بزرگ کنگال شاہ، جن کا مقبرہ اور درگاہ احاطے کے اندر واقع ہے، نے مسجد کی تعمیر کروائی تھی۔
ایڈوکیٹ پرم ویر سنگھ، جنہوں نے اکتوبر 2023 میں ڈی ڈی اے کو مسجد کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے قانونی نوٹس بھیجا تھا، کہا، "سرکاری ریکارڈ کے مطابق شاہی مسجد کنگال شاہ، درگاہ کنگال اور قبرستان اپنے موجودہ مقام پر 1913 سے پہلے سے موجود ہیں۔ ..” ان کے مطابق، برطانوی راج کے دوران نافذ ہونے والے مسلمان وقف توثیق ایکٹ، 1913 نے مسجد کی زمین کی قانونی طور پر توثیق کی جسے مذہبی عبادت اور تدفین کے لیے استعمال ہونے والی وقف جائیداد کے طور پر درجہ بند کیا گیاتھا(بشکریہIndiatomorrow)










