لکھنؤ(آرکے بیورو)
لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے بدایوں میں ایس پی کی سیاست کروٹ لے سکتی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سینئیر لیڈر شیوپال یادو کو برسیوں کے نام سے بخار آرہا ہے سلیم شیروانی کی ناراضگی ان پر بھاری پڑسکتی ہے اس لئے وہ سیٹ بدلنا چاہ رہے ہیں انہوں نے محفوظ سیٹ کی نشاندہی بھی کردی ہے اس لئے ایک بار پھر امیدوار کی تبدیلی کے اشارے سامنے آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہر سطح پر ایس پی لیڈروں میں دو طرح کی رائے سامنے آئی ہے۔ ایک بڑا طبقہ دھرمیندر یادو کو، جو بدایوں سے دو بار ایم پی رہ چکے ہیں، کو دوبارہ امیدوار بنانا چاہتا ہے، جب کہ ایس پی کے کچھ لیڈر دھرمیندر یادو سے ناخوش ہیں۔حال ہی میں، انہوں نے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ انہیں یہاں سے امیدوار نہ بنائیں۔ اس کے بعد ہی دھرمیندر یادو کی جگہ شیو پال سنگھ یادو کا نام آیا۔ اب ایس پی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیو پال سنگھ یادو خود بدایوں سے الیکشن لڑنے کے لیے پرجوش نہیں ہیں۔جب پارٹی لیڈروں کا یہ حالُہے تو عام کارکن کا کیا ہوگا
خبر ہے شیوپال سنبھل کو اپنی سیٹ بنانا چاہتے ہیں جہاں شفیق الحمن برق کو اتارا گیا تھا مگر ان کے انتقال کے بعد یہاں پارٹی کو مضبوط امیدوار تو چاہیے اس حلقہ میں یادو اچھی خاصی تعداد میں ہیں اور مسلمان بھی شیوپال اعلان کے بعد سے برسیوں نہیں گئے ہیں ، پھر مسلسل دوسری بار ان کے بیٹے آدتیہ یادو کا دورہ بھی ملتوی کر دیا گیا۔ آدتیہ یادو کو اپنے والد شیو پال یادو کی انتخابی کمان سنبھالنے کے لیے یہاں آنا پڑا۔
لوک سبھا انتخابات کی بساط بچھائی جانے لگی ہے۔ بی جے پی نے ابھی تک امیدوار کے بارے میں اپنا کارڈ نہیں کھولا ہے۔ بدایوں میں مسلمان اور یادو کا غلبہ ہے۔ اس کی وجہ سے یہ کبھی ایس پی کے لیے مضبوط سیٹ مانی جاتی تھی، لیکن گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کے کزن ایم پی دھرمیندر یادو کو شکست دینے کے لیے سنگھمترا موریہ کو میدان میں اتارا تھا۔دھرمیندر یادو سے سب ناراض تھے بی پی موری کی بیٹی نے ان کو بری طرح ہرادیا تھا-
انتخابات کے بعد سیاسی حالات بدلتے رہے۔ سنگھ مترا کے والد سوامی پرساد موریہ ایس پی میں تھے۔ ایس پی میں رہتے ہوئے انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر شدید سیاسی حملے کئے۔ تب سے ان کی بیٹی کے ٹکٹ کو لے کر بی جے پی کے اندر شکوک و شبہات ہیں۔ پہلی فہرست میں نام نہ آنے سے شک مزید بڑھ گیا ہے۔۔
بدایوں سیٹ جیتنے کے لیے ہی ایس پی نے شیو پال سنگھ یادو کو میدان میں اتارا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ شیو پال سنگھ کے آنے کے بعد سابق مرکزی وزیر سلیم اقبال شیروانی اور ایس پی کے سابق قومی سکریٹری عابد رضا کا چیلنج سامنے آیا ہے۔ ان دونوں نے ایک سیکولر محاذ بنایا اور سہسوان میں ایک بڑا جلسہ کیا۔ اس کے بعد ایس پی کے لیے ایک چیلنج ابھر رہا ہے۔اور شیو پال گھبراکر سیف زون تلاش کرنے پر لگ گئے ان کی نگاہ سنبھل پر اٹک گئی دیکھئے آنے والے کل کیا ہوتا ہے-








