عام انتخابات سے عین قبل مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔یہ جانکاری دیتے ہوئے وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ شہریت حاصل کرنے کے لیے آن لائن درخواست دینا ہوگی۔ اس کے لیے جلد ہی ایک ویب پورٹل شروع کیا جائے گا۔
اس بارے میں معلومات دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ٹویٹر پر لکھا، "مودی حکومت نے شہریت (ترمیمی) رولز، 2024 کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جو پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے ہندوستان آنے والی اقلیتوں کو اجازت دے گا۔ یہیں رہو۔” تمہیں شہریت مل جائے گی۔”
"اس نوٹیفکیشن کے ذریعے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آئین بنانے والوں کی طرف سے ان ممالک میں رہنے والے سکھوں، بدھ متوں، جینوں، پارسیوں اور عیسائیوں کے ساتھ کیے گئے ایک اور وعدے کو پورا کیا ہے۔”
اس سے قبل، وزارت داخلہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر لکھا تھا، "آج وزارت داخلہ شہریت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 کی دفعات سے متعلق ایک نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ اس کے ساتھ، CAA-2019 کے تحت اہل کوئی بھی شخص ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔” ‘نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد، وزیر قانون (آزادانہ چارج) ارجن رام میگھوال نے ٹویٹر پر لکھا، "جو کہا گیا وہ کیا گیا… مودی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کا نوٹیفکیشن جاری کرکے اپنی ضمانت پوری کی۔”لوک سبھا انتخاب سے قبل مرکزی حکومت کا یہ بڑا قدم ہے۔۔
قابل ذکر ہے کہ 2019 لوک سبھا انتخاب سے قبل بی جے پی نے سی اے اے کو اپنے منشور میں شامل کیا تھا۔ مودی حکومت کے دوسرے دور میں اسے بی جے پی نے بڑا ایشو بنایا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے حال ہی کی اپنی انتخابی تقریروں میں کئی بار شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کرنے کی بات کہی جس سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ لوک سبھا انتخاب سے قبل کبھی بھی اس کے نفاذ کا نوٹیفکیشن آ سکتا ہے۔
جبکہ ملک میں سی اے اے نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، تو جلد ہی آن لائن ویب پورٹل بھی لانچ کیا جائے گا۔ اس پر تین مسلم اکثریتی پڑوسی ممالک سے آنے والے اقلیتی شہری اپنا رجسٹریشن کرا سکیں گے اور سرکاری تفتیش کے بعد انھیں سی اے اے قانون کے تحت شہریت دی جائے گی۔ اس کے لیے بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے ہندوستان آئے اقلیتی طبقہ کے شہریوں کو کوئی دستاویز دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
مودی حکومت نے 2019 میں شہریت قانون میں ترمیم کر افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے 31 دسمبر 2014 سے قبل ہندوستان آنے والے چھ اقلیتوں (ہندو، عیسائی، سکھ، جین، بودھ اور پارسی) کو ہندوستان کی شہریت دینے کا التزام کیا تھا۔ اصول کے مطابق شہریت دینے کا اختیار مرکزی حکومت کے ہاتھوں میں ہوگا۔ اس قانون کی اپوزیشن پارٹیاں سخت الفاظ میں مذمت کرتی رہی ہیں اور مودی حکومت کو نشانہ بھی بناتی رہی ہیں۔ سی اے اے کے خلاف کئی ریاستوں میں عوام نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر مظاہرے بھی کیے، لیکن مودی حکومت پر ان احتجاجی مظاہروں کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔









