نیویارک: ہیومن رائٹس واچ نے سوموار (18 مارچ) کو کہا کہ ہندوستانی حکام بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بولنے والے ہندوستانی نژاد غیر ملکی ناقدین کے ویزے منسوخ کر رہے ہیں ۔
وزیر اعظم نریندر مودی اکثر ہندوستانی جمہوریت کا جشن منانے امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور دوسری جگہوں پر پارٹی کی حمایت کرنے والے تارکین وطن کی اجتماعی میٹنگوں میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ ان کی حکومت نے ان لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی ‘شبیہ کو داغدار‘ کر رہے ہیں۔
اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (اوسی آئی) کا درجہ ہندوستانی نژاد غیر ملکی شہریوں یا ہندوستانی شہریوں سے شادی شدہ غیر ملکیوں کو دیا جاتا ہے، تاکہ انہیں یہاں رہنے کے وسیع رہائشی حقوق مل سکیں اور ویزا کی ضروریات کو در کنار کیا جا سکے۔ تاہم، یہ شہریت کے حقوق کے برابر نہیں ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جن لوگوں کا اوسی آئی ویزا اسٹیٹس رد کر دیا گیا ہے، ان میں سے کئی ہندوستانی نژاد ماہرین تعلیم ، کارکن اور صحافی ہیں جو بی جے پی کے ہندو اکثریتی نظریے کی کھلے عام تنقید کرتے رہے ہیں۔
تھے
کچھ لوگوں نے اظہار رائے کی آزادی اور معاش کے اپنے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے آئینی بنیادوں پر ہندوستانی عدالتوں میں اس کارروائی کو چیلنج کیا ہے ۔
ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے کہا، ‘بی جے پی کی توہین آمیز اور امتیازی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے تارکین وطن ہندوستانیوں کے خلاف ہندوستانی حکومت کی کارروائی تنقید اور بات چیت کے بارے میں اس کے رویے کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکام ہندوستانی کارکنوں اور ماہرین تعلیم سے لے کر بیرون ملک مقیم ہندوستانی نژاد غیر ملکی شہریوں تک ہر ایک کے خلاف سیاسی طور پر جبر کرنے کو آمادہ ہیں۔’
حکومت این آر آئی کے لیے ویزا اسٹیٹس کے بارے میں زیادہ محتاط
بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت حالیہ برسوں میں این آر آئی کے لیے ویزا کی حیثیت کو لے کر زیادہ محتاط ہو گئی ہے۔ 2021 میں حکومت نے 4.5 ملین او سی آئی کارڈ ہولڈرز کو ‘غیر ملکی شہریوں’ کے طور پر دوبارہ درجہ بندی کرکے ان کی سہولیات کو کم کر دیا اور اب انہیں تحقیق اور صحافت کرنے یا ‘محفوظ’ کے طور پر درج ہندوستان کے کسی بھی علاقے کا دورہ کرنے کے لیے خصوصی اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پچھلی دہائی میں حکومت نے مبینہ طور پر ‘آئین کے تئیں عدم اطمینان‘ کا اظہار کرنے کے لیے ایک سو سے زیادہ پرمٹ رد کر دیے ہیں اور کچھ این آر آئی کو ملک بدر بھی کیا ہے۔
ظاہر ہے کہ اس سے اوسی آئی کارڈ ہولڈرز کے لیے تشویش بڑھ گئی ہے، چاہے وہ ہندوستان میں رہ رہے ہوں یا بیرون ملک۔ ان میں سے کئی کے والدین بزرگ ہیں اور کچھ کے ہندوستان سے مضبوط ذاتی تعلقات ہیں۔ہندوستانی نژاد سویڈش ماہر تعلیم اشوک سوین کا 2022 میں اوسی آئی اسٹیٹس منسوخ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی، جس میں عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے اپنی کارروائی کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔
اس کے بعد جولائی 2023 میں سویڈن میں ہندوستانی قونصل خانے نے سوین کو ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کو ‘مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے’ اور ‘ہندوستان کے سماجی تانے بانے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش’ کرنے کی وجہ سے ضروری ثبوت فراہم کیے بغیر ان کا او سی آئی اسٹیٹس رد کرنے کاایک نیا آرڈر بھیجا تھا ۔
جب سوین نے ستمبر 2023 میں اس حکم کو چیلنج کیا تو حکام نے دعویٰ کیا کہ انہیں سکیورٹی ایجنسیوں سے ‘خفیہ’ ان پٹ موصول ہوئے تھے۔ فروری 2024 میں، سوین کاایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا تھا اور بعد میں ہیک کر لیا گیا تھا ۔سوائن نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا، ‘میرےمعاملے کو ہندوستان سے باہر دیگر ماہرین تعلیم کو ڈرانے یا حکومت کی تنقید نہ کرنےکے لیے مجبور کرنے کے لیے ایک مثال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ وہ خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ لوگ ملک واپس جانے کا موقع چاہتے ہیں۔’(سورس:دی وائر)









