پڑوس کا احوال:ضیاء الرحمن
حافظ نعیم الرحمن کے بطور امیر جماعتِ اسلامی انتخاب کا معاملہ پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ ماہرین اس انتخاب کو مذہبی سیاسی قوت کے اندازِ سیاست میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے ساتھ ساتھ جماعتِ اسلامی کے اندرونی حلقوں کا بھی یہی خیال ہے کہ مرکزی امارت کے لیے حافظ نعیم الرحمن کا انتخاب جماعتِ اسلامی کے ارکان کی اس خواہش کا عکاس معلوم ہوتا ہے کہ اس کی قیادت کو بدلتی سیاست کے عملی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
اگرچہ جماعتِ اسلامی انتخابات کے دوران ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے میں اتنی کامیاب نہیں ہو سکی۔ لیکن سیاسی مبصرین کے لیے جماعتِ اسلامی کے امیر کے انتخاب کا معاملہ ہمیشہ دل چسپی کی وجہ بنتا ہے جس کی وجہ اس پارٹی کا سیاسی نظریہ اور اسٹریٹ پاور ہے۔
البتہ حافظ نعیم الرحمن کے انتخاب کو سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر جس بڑے پیمانے پر توجہ حاصل ہوئی ہے۔ مبصرین کے نزدیک پاکستان کے حالیہ انتخابات اور اس کے بعد ہونے والی نئی سیاسی صف بندی اس کی بنیادی وجہ ہے۔
’سب سے پرانی‘ جماعت کے نئے امیر
جماعت اسلامی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ ’ملک کی سب سے بڑی اور پرانی اسلامی تحریک‘ ہے۔ یہ قیامِ پاکستان سے قبل 26 اگست 1941 میں وجود میں آئی تھی۔
جماعت اسلامی کے قیام سے لے کر اب تک چھ امیر منتخب ہوئے ہیں جن میں اس کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، منورحسن، سراج الحق اور اب حافظ نعیم الرحمن شامل ہیں۔جماعتِ اسلامی کی جانب سے نو منتخب امیر کے جاری کردہ تعارف کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن 1972 میں حیدرآباد، سندھ کے ایک متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین ہندوستان کے شہر علی گڑھ سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔
نعیم الرحمن نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد سے حاصل کی اور وہیں قرآن بھی حفظ کیا۔ بعدازاں کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے بی ای سول انجینئرنگ کیا اور کراچی یونیورسٹی سے اسلامی تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔
جماعتِ اسلامی میں شمولیت سے قبل وہ پارٹی کے اسٹوڈنٹ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن اور 1998 میں اس کے مرکزی ناظمِ اعلیٰ بھی رہے۔ جماعتِ اسلامی میں شامل ہونے کے بعد 2013 میں وہ کراچی کے امیر منتخب ہوئے۔
*جماعت اسلامی میں کون کب تک امیر کے منصب پر فائز رہا؟
*سید ابو الاعلیٰ مودودی (بانی امیر)
1941-1972
*میاں طفیل محمد
1972-1987
*قاضی حسین احمد
1987-2009
*سید منور حسن
2009-2014
*سراج الحق
2014-2024
مولانا مودودی کے بعد جماعتِ اسلامی کے مرکزی امراء بننے والوں میں وہ علمی قابلیت دیکھنے میں نہیں آتی۔
جماعتِ اسلامی کے تنظیمی معاملات اور طرزِ سیاست پر نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سجاد میر کہتے ہیں کہ حافظ نعیم ملکی سیاست میں جماعتِ اسلامی کے ایک جارحانہ رہنما کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں جو دعوت کے ساتھ ساتھ سیاسی پیغام بھی پُر زور طریقے سے پیش کریں گے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سجاد میر کا کہنا تھا کہ ترکیہ، تیونس سمیت دنیا کے وہ ممالک جہاں اسلامی تحریکیں چل رہی ہیں، وہاں یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ تبلیغ کو سیاست سے علیحدہ نہ کیا جائے-صحافی فیض اللہ خان کا کہنا ہے کہ حافظ نعیم سے جماعت کے نوجوان طبقے کو کافی امیدیں وابستہ ہے جو بدلتے ہوئے دور کے مطابق جماعت میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
شخصیت یا نظریات؟
حافظ نعیم الرحمن کے مرکزی امیر بننے کے بعد تجزیہ کاروں اور جماعت کے اندرونی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا اب جماعت اسلامی کی تنظیم پر نظریات کے مقابلے میں شخصیت حاوی ہو رہی ہے۔
بعض مبصرین کے مطابق 2022 میں ہونے والے کراچی کے بلدیاتی انتخاب میں جس طرح حافظ نعیم الرحمن کے نام اور تصویر پر ووٹ مانگے گئے یہ جماعتِ اسلامی کی روایتی سیاست سے مختلف انداز تھا۔ کراچی میں 2016 سے قبل متحدہ قومی موومنٹ بھی تقسیم کا شکار ہونے سے پہلے تک پارٹی بانی الطاف حسین کے نام اور تصویر پر الیکشن لڑتی تھی۔
٭نئے امیر کو درپیش چیلنج؟
ملک میں جاری پاپولسٹ سیاست کی لہر سے جماعتِ اسلامی بھی شدید متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس کے ارکان نے جماعت کے اندر ہی پاپولر رہنما حافظ نعیم الرحمن کا انتخاب کیا۔
جماعتِ اسلامی کے نئے امیر کے لئے عمران خان کی ‘کرشماتی شخصیت کے اردگرد گھومتی” پی ٹی آئی کی سیاست کا مقابلہ کرنا ایک مشکل چیلنج ہے۔
بعض تجزیہ کار اور جماعتِ اسلامی کے اندرونی حلقوں کا خیال ہے کہ حافظ نعیم الرحمن پی ٹی آئی کی مقبولیت کے عوامل کو دیکھے ہوئے جماعت کے تنظیمی ڈھانچے میں متعدد بنیادی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
ان تبدیلیوں میں پارٹی سرگرمیوں میں خواتین کی نمایاں شرکت کے ساتھ ساتھ پارٹی کے پروگرام اور بیانیے کو پھیلانے کے لیے روایتی میڈیا کے بجائے سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال شامل ہے (سورس :وائس آف امریکہ)









