حیدرآباد::جماعت اسلامی ہند نے پارلیمانی چناؤ میں کانگریس کی حمایت کا اعلان کیا ہے -اس نے ریاست کا اسمبلی الیکشن میں بھی کانگریس کی حمایت کی تھی حالانکہ یہاں کے مسلمانوں کو بی آرایس کی سرکار سے کوئی شکایت نہیں تھی
پریس کو جاری ریلیز کے مطابق حلقہ تلنگانہ کی مجلس شوری نے آنے والے پارلیمانی انتخابات میں تلنگانہ کے سترہ (17) پارلیمانی حلقہ جات میں سے سولہ (16) پر کانگریس اور ایک نشست پر مجلس اتحاد المسلمین کی تائید کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے مجلس کے صدر اسدالدین اویسی الیکشن لڑرہے ہیں
عبدالمجید شعیب معاون امیر حلقہ جماعت اسلامی تلنگانہ و کنوینر پولیٹیکل افیرس کمیٹی حلقہ تلنگانہ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں عامة الناس بطور خاص مسلم رائے دہندگان سے اپیل کہ وہ صد فیصد رائے دہی کو یقینی بنائیں۔
اپنے گھروں میں موجود تمام ووٹروں کو ساتھ لیکر پولنگ بوتھ جائیں اور ان انتخابات میں نفرت کی سیاست کا خاتمہ کرنے کی بھرپور کوشش کریں ۔
عبدالمجید شعیب نے عوام سے اپیل کہ صبح کی ابتدائی ساعتوں میں حق رائے دہی سے استفادہ کریں تاکہ بوگس ووٹنگ کا موقع نہ رہے اور دھوپ کی شدت سے بھی محفوظ رہا جاسکے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ تلنگانہ کے عوام فرقہ پرست قوتوں کا تلنگانہ سے صفایا کردیں گے اور ملت اپنے ووٹوں کو منتشر نہیں ہونے دےگی ۔
قابل ذکر ہے کہ سابق وزیر اعلی بھی مسلمانوں کے بہت قریب رہے ہیں ۔اس بار مسلمان ملک گیر سطح پر بہت خاموشی سے یکسو ہوکر ووٹنگ کررہے ہیں کسی مسلم جماعت نے کسی پارٹی کے لئے اس بار کسی خاص جماعت کو ووٹ دینے کی اپیل نہیں کی ہے -اپیل والی سیاست کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہورہی ہے -جماعت اسلامی واحد مسلم مذہبی تنظیم ہے جس نے کھل کر کانگریس کے لئے ووٹ مانگا ہے-









