اردو
हिन्दी
اگست 20, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

لا کالج کے مسلم پرنسپل جن پر ’ہندو مخالف‘ اور ’ملک دشمن‘ ہونے کے الزامات غلط ثابت ہوئے

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
140
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایک لا کالج کے پرنسپل کے خلاف نماز پڑھنے، اس کی ترغیب دینے، لائبریری میں ’ملک مخالف‘ کتاب رکھنے، مسلمان اساتذہ بھرتی کرنے اور ’لو جہاد‘ کو فروغ دینے جیسے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اس کے نتیجے میں حکومت نے ان سے زبردستی استعفیٰ لیا۔ مگر اب ڈیڑھ سال بعد سپریم کورٹ نے ان کے خلاف درج مقدمے کو ’غیر مناسب‘ قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔
ڈاکٹر انعام الرحمان ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں واقع گورنمنٹ نیو لا کالج کے سربراہ تھے، جنھیں دسمبر 2022 میں اس وقت معطل کر دیا گیا جب بی جے پی کے طلبہ ونگ سے منسلک ایک گروپ نے ان کے خلاف تعصب جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔
ڈاکٹر انعام الرحمان کے خلاف مقدمہ تو خارج ہو گیا مگر جو زخم ان کے دل پر لگے ہیں شاید ہی وہ مندمل ہو سکیں۔ بی بی سی نے ڈاکٹر انعام الرحمان سے اس مقدمے اور اس کے ان پر پڑنے والے اثرات پر تفصیل سے بات کی ہے۔
اگرچہ ڈاکٹر انعام الرحمان نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے کہ ان کے ریٹائر ہونے سے چند دن قبل انھیں انصاف ملا ہے مگر شاید جو درد ان کے سینے میں ہے وہ مزید بڑھ گیا ہے۔
بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے پروفیسر انعام الرحمان جذباتی ہو گئے اور روتے ہوئے کہا کہ ’میرے 38 سال کے ٹیچنگ کیریئر میں کبھی بھی کسی طرح کا کوئی الزام نہیں لگا تھا۔ کبھی کوئی انکوائری نہیں ہوئی تھی، ایک ’اظہار وجوہ‘ کا نوٹس تک نہیں جاری ہوا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ کالج کی بہتری کے لیے اپنی تمام تر قوتیں لگانے کے باوجود وہ خود کو مشکل میں پاتے ہیں۔ ’میں باہر سے اساتذہ لے کر آیا۔ باہر کے اچھے کالجوں سے رابطہ قائم کیا۔ گورنمنٹ کے سینیئر افسران سے جا کر ملاقاتیں کیں۔ چاہتا تھا کہ آنے والی نسلوں کو دقت نہ ہو۔ لیکن اس کا کیا فائدہ ہوا؟‘
ان پر یہ بھی الزام لگایا کہ پروفیسر انعام الرحمان نے مسلمان اساتذہ کو کالج میں نوکریاں دی ہیں اور ہندو طلبہ کے خلاف امتحانات میں امتیازی سلوک کرتے ہیں۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پروفیسر رحمان نے ملک کی اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
ڈاکٹر رحمان کے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ’ایف آئی آر کا جائزہ لینے سے یہ بات ظاہر ہے کہ ایف آئی آر ایک ’غیرمعقول‘ ہونے کے سوا کچھ نہیں ہے‘ اور ’ایف آئی آر ان پر لگے کسی بھی الزام کو ثابت نہیں کرتی‘۔
عدالت نے اس معاملے میں ریاستی حکومت کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ظلم و ستم کا معاملہ لگتا ہے‘۔
ڈاکٹر انعام 31 مئی کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ابھی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی محکمانہ انکوائری میں انھیں اگلے ماہ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔
’ویب سائیٹ لائیو لا‘ کے مطابق عدالت نے حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ ’ریاست مدھیہ پردیش ایسے معاملے میں عدالت میں ایک ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو بھیج رہی ہے؟ ۔۔۔ واضح طور پر ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ظلم و ستم کا معاملہ ہے۔‘عدالت نے مزید کہا کہ ’کوئی انھیں یعنی درخواست گزار کو پریشان کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ہم تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کریں گے۔
ڈاکٹر انعام الرحمان نے یہ بھی کہا کہ کالج میں کچھ ایسے طالب علم بھی ہیں جنھوں نے دو سال تک فیس ادا نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق ’میں نے ان سے کہا کہ یہ ایک سرکاری کالج ہے اور آپ کو فیس کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔ میں نے ان پر سختی کی‘۔
لیکن ان طلبہ میں سے کئی نے ڈاکٹر انعام الرحمان اور دیگر مسلم اساتذہ کے خلاف سنگین الزامات لگا دیے مثلاً یہ کہ انھیں جان بوجھ کر امتحانات میں فیل کیا جا رہا ہے۔ انعام الرحمان کہتے ہیں کہ ’ہمارا کہنا تھا کہ اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ امتحانات تو یونیورسٹی لیتی ہیں، نہ کہ کالج‘۔
ایف آئی آر درج ہونے کے بعد انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے حکومت کو لکھ کر دیا کہ میں نے دباؤ میں استعفیٰ دیا ہے۔ میں کوئی اپنی ذمہ داری سے نہیں بھاگ رہا‘
ہ کالج اور طلبہ کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو یاد کرتے ہوئے رو پڑے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے پرنسپل رہتے ہوئے بھی کوئی کلاس نہیں چھوڑی۔ میں کالج میں دس بجے سے رات ساڑھے آٹھ نو بجے تک رہتا تھا کہ اسے کافی آگے لے کر جاؤں گا‘۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا جوڈیشل آفیسر ہے، بیٹی ڈاکٹر ہیں، داماد پروفیسر، بیوی ریٹائرڈ جج اور اب ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے کالج اور طلبہ کے لیے کچھ کریںانھوں نے بھری ہوئی آواز میں کہا کہ ’میں نے بچوں کو پڑھانے میں پوری زندگی لگا دی۔ لیکن آخری لمحے میں مجھے یہ نتیجہ دیکھنے کو ملا‘۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN