سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک فنڈ ریزنگ تقریب میں یہودی عطیہ دہندگان سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائی جاری رکھنے کے اسرائیل کے حق کی حمایت کرتے ہیں لیکن غزہ کی موجودہ صورت حال اس کے لیے خراب دکھائی دے رہی ہے اور اسرائیل اپنی طاقت کھو رہا ہے۔
’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ریپبلکن صدارتی امیدوار ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے مگر غزہ کی موجودہ صورت حال اسرائیل کے لیے اچھی ہرگزنہیں۔
حالیہ مہینوں میں متعدد ریپبلکن عطیہ دہندگان نے ٹرمپ پراسرائیل اور اس کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حمایت میں مضبوط موقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ایک بند کمرے کی گفتگو میں نیتن یاھو پر تنقید کی تھی لیکن اس نے عطیہ دہندگان کو اشارہ کیا کہ وہ اسرائیل کے "دہشت گردی کے خلاف جنگ” جاری رکھنے کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔
گولان کی قیمت دو ٹریلین ڈالر
پیرکی تقریب میں ٹرمپ نے بہ طور صدر اسرائیل کےحوالے سے اپنی پالیسیوں پر بھی فخر کا اظہار کیا اور عطیہ دہندگان کو بتایا کہ اسرائیل کو اب پہلے سے زیادہ ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیل کے لیے سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں میں بہت کم لوگ شرکت کرتے ہیں۔ واشنگٹن خاص طور پر کانگریس میں اسرائیل اپنی طاقت کھو رہا ہے۔ یہ ناقابل یقین ہے”۔
اسرائیلی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں اسرائیل کی خاطر کیے گئے اقدامات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے اور گولان کی پہاڑیوں کواسرائیل کا اٹوٹ انگ تسلیم کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنےکے لیے امریکی سفیرڈیوڈ فریڈمین سے صرف پانچ منٹ بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "آپ جانتے ہیں کہ اگرآپ گولان کی پہاڑیوں کو رئیل اسٹیٹ کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو ان کی قیمت 2 کھرب ڈالر ہے‘‘۔









