ابھی الیکشن ختم ہوا ہے ، رزلٹ بھی نہیں آیا اور مہنگائی میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا -اس کا آغاز ہر ایک کے استعمال میں آنے والی چیز یعنی دودھ سے ہوا ہے-ملک بھر میں امول دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جرات کوآپریٹو دودھ مارکیٹنگ فیڈریشن نے امول دودھ کی قیمت میں دو روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔
اسی پر بس نہیں دوسری طرف ووٹنگ ختم ہوتے ہی ملک کے عوام کو ٹول ٹیکس کا بڑا جھٹکا لگا۔ ملک بھر میں ٹول ٹیکس میں 5 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی فیس کا اطلاق آج یعنی 3 جون سے ہوگا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے کہا کہ اسے پہلے لاگو کیا جانا تھا لیکن انتخابات کے پیش نظر اسے ملتوی کر دیا گیا تھا گاڑی مالکان کو کو آج سے ہی تمام ٹول پلازوں پر 5 فیصد زیادہ ٹول ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ معلومات کے مطابق، ہائی وے یوزر فیس کو سالانہ نظرثانی کے تحت پہلے (1 اپریل) سے لاگو کیا جانا تھا، لیکن لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے یہ اضافہ ملتوی کر دیا گیاتھا
جہاں تک دودھ کا تعلق ہے امول گولڈ دودھ میں دو روپے فی لیٹر اضافے کے علاوہ امول شکتی اور ٹی اسپیشل کی قیمتوں میں بھی دو روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ دودھ کی قیمتوں میں یہ اضافہ آج سے نافذ العمل ہوگا۔دہلی میں قیمتوں میں اضافے کے بعد صارفین کو امول گولڈ کے لیے 66 روپے کے بجائے 68 روپے ادا کرنے ہوں گے، جب کہ آدھے لیٹر امول گولڈ کی قیمت 34 روپے ہو گی۔
امول آدھا لیٹر کی قیمت 26 روپے سے بڑھ کر 27 روپے ہو گئی ہے۔ امول شکتی آدھا لیٹر کی قیمت 29 روپے سے بڑھا کر 30 روپے کر دی گئی ہے۔ امول تازہ ساشے کو چھوڑ کر سبھی کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔جبکہ امول گائے کے دودھ کے لیے صارفین کو 56 روپے فی لیٹر ادا کرنا ہوں گے۔









