اردو
हिन्दी
اگست 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

نئے فوجداری قوانین آج سے نافذ ، پولیس راج اور مضبوط، نئے قانون میں 15 کی بجائے 90 دن کی  حراست

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
569
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تین فوجداری قوانین (انڈین سول کوڈ – بی این ایس، انڈین سول ڈیفنس کوڈ – بی این ایس ایس اور انڈین ایویڈینس ایکٹ – بی ایس اے) پیر یکم جولائی سے لاگو ہو رہے ہیں۔ لیکن پرانے جرائم کے معاملات میں آئی پی سی اور سی آر پی سی لاگو رہیں گے۔ نئے قوانین کا اطلاق گزٹ نوٹیفکیشن کے نافذ ہونے کے بعد ہونے والے جرائم پر ہوگا۔ یعنی قتل کے پرانے مقدمات کی سماعت آئی پی سی کی دفعہ 302 کے تحت کی جائے گی لیکن یکم جولائی کو یا اس کے بعد قتل کا نیا مقدمہ دفعہ 103 کے تحت درج کیا جائے گا۔ اسی طرح چوری پر دفعہ 303 (1)، قتل کی کوشش پر 309، جعلسازی پر 420 کی بجائے 318، زیادتی پر 376 کی بجائے 64، بھتہ خوری پر 308 اور جہیز میں موت پر 80 کی دفعہ لگائی جائے گی۔
اس کو مزید آسان طریقہ سے ہم یوں سمجھیں تین نئے فوجداری قوانین،  انڈین جوڈیشل کوڈ یعنی بھارتیہ نیائے سنہیتا، انڈین  سیکیورٹی کوڈ یعنی بھارتیہ سرکشا سنہیتا اورانڈین ایویڈینس ایکٹ یعنی بھارتیہ ساکشے ادھینئم آج یعنی یکم جولائی 2024 سے لاگو ہوں گے۔ انڈین جوڈیشل کوڈ کا قانون اب آئی پی سی (انڈین پینل کوڈ) کی جگہ لے گا۔ یہ دونوں بل پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پاس ہوئے تھے۔
انڈین جوڈیشل کوڈ میں 21 نئے جرائم شامل کیے گئے ہیں، جن میں ایک نیا جرم موب لنچنگ ہے۔ اس میں موب لنچنگ پر بھی قانون بنایا گیا ہے۔ 41 جرائم میں سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 82 جرائم میں سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق اس کے کچھ پہلو اس طرح ہیں ۔
نئے قانون کے مطابق فوجداری مقدمات کا فیصلہ سماعت ختم ہونے کے 45 دن کے اندر آئے گا۔ پہلی سماعت کے 60 دنوں کے اندر الزامات عائد کیے جائیں گے۔ تمام ریاستی حکومتوں کو گواہوں کے تحفظ اور تعاون کو یقینی بنانے کے لیے گواہوں کے تحفظ کی اسکیموں کو نافذ کرنا ہوگا۔
ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کے بیانات ایک خاتون پولیس افسر متاثرہ کے سرپرست یا رشتہ دار کی موجودگی میں ریکارڈ کرے گی۔ میڈیکل رپورٹ سات دن میں مکمل کی جائے گی
قانون میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے نئے باب کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس میں بچے کی خرید و فروخت کو ایک گھناؤنا جرم قرار دیا گیا ہے جس کے لیے سخت سزا کا انتظام ہے۔نابالغ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی سزا موت یا عمر قید ہوسکتی ہے۔
نئے قانون میں اب ایسے معاملات کے لیے سزا کی دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں خواتین کو شادی کے جھوٹے وعدوں یا گمراہ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ نئے قانون میں خواتین کے خلاف جرائم کا شکار ہونے والی خواتین کو 90 دن کے اندر اپنے مقدمات کی باقاعدہ اپ ڈیٹ حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ خواتین اور بچوں سے متعلق جرائم کے کیسز میں تمام ہسپتالوں میں مفت علاج کی فراہمی لازمی ہو گی۔
ملزم اور متاثرہ دونوں کو 14 دنوں کے اندر ایف آئی آر، پولیس رپورٹ، چارج شیٹ، بیان، اعترافی بیان اور دیگر دستاویزات کی کاپیاں حاصل کرنے کا حق ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک کمیونیکیشن کے ذریعے واقعات کی اطلاع دی جاسکتی ہے جس سے تھانے جانے کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ نیز، کوئی شخص اپنے دائرہ اختیار کے تحت پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرا سکتا ہے۔
اب سنگین جرائم کے لیے فرانزک ماہرین کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کرنا لازمی ہوگا۔ جنس کی تعریف میں اب ٹرانس جینڈر افراد بھی شامل ہوں گے، جو مساوات کو فروغ دیتا ہے۔ خواتین کے خلاف کچھ جرائم کے لیے، جب بھی ممکن ہو، متاثرہ کا بیان ایک خاتون مجسٹریٹ کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا انتظام ہے
  -انڈین سول سیکیورٹی کوڈ (بی این ایس ایس) کے تحت پولیس کی تحویل کو 15 دن کی موجودہ حد سے بڑھا کر 90 دن کر دیا گیا ہے۔ درحقیقت سابق ججوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسی معاملے پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اب عام تعزیری جرائم کے مقدمات میں پولیس ملزمان کو طویل عرصے تک حراست میں رکھ سکے گی۔ ایسے میں شخصی آزادی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مرکزی حکومت تین نئے فوجداری قوانین سے کسی بھی فریق کو خوش نہیں کر سکی ہے۔ پچھلے سال جب حکومت اس بل کو پارلیمنٹ میں لانے والی تھی تو اس کی مخالفت شروع ہو گئی۔ اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں کے دو وزرائے اعلیٰ، مغربی بنگال کی ممتا بنرجی اور تمل ناڈو کے ایم کے اسٹالن نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر ان کے التوا کا مطالبہ کیا تھا۔ جب پارلیمنٹ میں زبردست احتجاج ہوا تو اسپیکر اوم برلا نے حزب اختلاف کے 100 سے زائد ارکان اسمبلی کو ایوان سے معطل کر دیا اور انہیں حکومت کی طرف سے پاس ہونے دیا۔ اوم برلا پر یہ داغ تاریخ میں درج ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN