تین فوجداری قوانین (انڈین سول کوڈ – بی این ایس، انڈین سول ڈیفنس کوڈ – بی این ایس ایس اور انڈین ایویڈینس ایکٹ – بی ایس اے) پیر یکم جولائی سے لاگو ہو رہے ہیں۔ لیکن پرانے جرائم کے معاملات میں آئی پی سی اور سی آر پی سی لاگو رہیں گے۔ نئے قوانین کا اطلاق گزٹ نوٹیفکیشن کے نافذ ہونے کے بعد ہونے والے جرائم پر ہوگا۔ یعنی قتل کے پرانے مقدمات کی سماعت آئی پی سی کی دفعہ 302 کے تحت کی جائے گی لیکن یکم جولائی کو یا اس کے بعد قتل کا نیا مقدمہ دفعہ 103 کے تحت درج کیا جائے گا۔ اسی طرح چوری پر دفعہ 303 (1)، قتل کی کوشش پر 309، جعلسازی پر 420 کی بجائے 318، زیادتی پر 376 کی بجائے 64، بھتہ خوری پر 308 اور جہیز میں موت پر 80 کی دفعہ لگائی جائے گی۔
اس کو مزید آسان طریقہ سے ہم یوں سمجھیں تین نئے فوجداری قوانین، انڈین جوڈیشل کوڈ یعنی بھارتیہ نیائے سنہیتا، انڈین سیکیورٹی کوڈ یعنی بھارتیہ سرکشا سنہیتا اورانڈین ایویڈینس ایکٹ یعنی بھارتیہ ساکشے ادھینئم آج یعنی یکم جولائی 2024 سے لاگو ہوں گے۔ انڈین جوڈیشل کوڈ کا قانون اب آئی پی سی (انڈین پینل کوڈ) کی جگہ لے گا۔ یہ دونوں بل پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پاس ہوئے تھے۔
انڈین جوڈیشل کوڈ میں 21 نئے جرائم شامل کیے گئے ہیں، جن میں ایک نیا جرم موب لنچنگ ہے۔ اس میں موب لنچنگ پر بھی قانون بنایا گیا ہے۔ 41 جرائم میں سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 82 جرائم میں سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق اس کے کچھ پہلو اس طرح ہیں ۔
نئے قانون کے مطابق فوجداری مقدمات کا فیصلہ سماعت ختم ہونے کے 45 دن کے اندر آئے گا۔ پہلی سماعت کے 60 دنوں کے اندر الزامات عائد کیے جائیں گے۔ تمام ریاستی حکومتوں کو گواہوں کے تحفظ اور تعاون کو یقینی بنانے کے لیے گواہوں کے تحفظ کی اسکیموں کو نافذ کرنا ہوگا۔
ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کے بیانات ایک خاتون پولیس افسر متاثرہ کے سرپرست یا رشتہ دار کی موجودگی میں ریکارڈ کرے گی۔ میڈیکل رپورٹ سات دن میں مکمل کی جائے گی
قانون میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے نئے باب کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس میں بچے کی خرید و فروخت کو ایک گھناؤنا جرم قرار دیا گیا ہے جس کے لیے سخت سزا کا انتظام ہے۔نابالغ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی سزا موت یا عمر قید ہوسکتی ہے۔
نئے قانون میں اب ایسے معاملات کے لیے سزا کی دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں خواتین کو شادی کے جھوٹے وعدوں یا گمراہ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ نئے قانون میں خواتین کے خلاف جرائم کا شکار ہونے والی خواتین کو 90 دن کے اندر اپنے مقدمات کی باقاعدہ اپ ڈیٹ حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ خواتین اور بچوں سے متعلق جرائم کے کیسز میں تمام ہسپتالوں میں مفت علاج کی فراہمی لازمی ہو گی۔
ملزم اور متاثرہ دونوں کو 14 دنوں کے اندر ایف آئی آر، پولیس رپورٹ، چارج شیٹ، بیان، اعترافی بیان اور دیگر دستاویزات کی کاپیاں حاصل کرنے کا حق ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک کمیونیکیشن کے ذریعے واقعات کی اطلاع دی جاسکتی ہے جس سے تھانے جانے کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ نیز، کوئی شخص اپنے دائرہ اختیار کے تحت پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرا سکتا ہے۔
اب سنگین جرائم کے لیے فرانزک ماہرین کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کرنا لازمی ہوگا۔ جنس کی تعریف میں اب ٹرانس جینڈر افراد بھی شامل ہوں گے، جو مساوات کو فروغ دیتا ہے۔ خواتین کے خلاف کچھ جرائم کے لیے، جب بھی ممکن ہو، متاثرہ کا بیان ایک خاتون مجسٹریٹ کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا انتظام ہے
-انڈین سول سیکیورٹی کوڈ (بی این ایس ایس) کے تحت پولیس کی تحویل کو 15 دن کی موجودہ حد سے بڑھا کر 90 دن کر دیا گیا ہے۔ درحقیقت سابق ججوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسی معاملے پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اب عام تعزیری جرائم کے مقدمات میں پولیس ملزمان کو طویل عرصے تک حراست میں رکھ سکے گی۔ ایسے میں شخصی آزادی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مرکزی حکومت تین نئے فوجداری قوانین سے کسی بھی فریق کو خوش نہیں کر سکی ہے۔ پچھلے سال جب حکومت اس بل کو پارلیمنٹ میں لانے والی تھی تو اس کی مخالفت شروع ہو گئی۔ اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں کے دو وزرائے اعلیٰ، مغربی بنگال کی ممتا بنرجی اور تمل ناڈو کے ایم کے اسٹالن نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر ان کے التوا کا مطالبہ کیا تھا۔ جب پارلیمنٹ میں زبردست احتجاج ہوا تو اسپیکر اوم برلا نے حزب اختلاف کے 100 سے زائد ارکان اسمبلی کو ایوان سے معطل کر دیا اور انہیں حکومت کی طرف سے پاس ہونے دیا۔ اوم برلا پر یہ داغ تاریخ میں درج ہے۔









