ایران کے نومنتخب اصلاح پسند کی صدارتی الیکشن میں کامیابی کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق صدر ابراہیم رئیسی کے نقش قدم پر چلیں۔انہوں نے کہا کہ منتخب صدر کو ابراہیم رئیسی کے راستے پر چلنا چاہیے۔
مقامی میڈیا کی طرف سے شائع ہونے والے ان کے مکتوب میں خامنہ ای نے نو منتخب صدر پر زور دیا کہ وہ "عوام کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لیے ایران کے وسائل سے فائدہ اٹھائیں”۔
انہوں نے انتخابات کو "آزاد اور شفاف” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں 55 ملین سے زیادہ لوگوں نے ووٹ ڈالے۔
٭صدر کے اختیارات
واضح ہو کہ ایران میں صدر اعلیٰ ترین منتخب عہدیدار ہیں۔ سپریم لیڈر کے بعد انہیں دوسرے نمبر پراختیارات کا حامل عہدیدار سمجھا جاتا ہے مگر ایران میں حقیقی طاقت اور اختیارات سپریم لیڈر کے پاس ہیں۔پزشکیان ریاستی پالیسی کے نفاذ کے لیے ذمہ دار ہوں گے جس کے خدوخال سپریم لیڈر علی خامنہ ای طے کرتے ہیں۔
صدر حکومت کے روزمرہ کے امور کو سنبھالنے کا ذمہ دار ہے اور ملکی پالیسی اور خارجہ امور پر اس کا خاصا اثر و رسوخ رکھتا ہے۔’بی بی سی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران صدر کے پاس سکیورٹی سے متعلق اختیارات محدود ہوتے ہیں
صدر کی وزارت داخلہ نیشنل پولیس سروس کا انتظام کرتی ہے لیکن پولیس چیف کا تقرر سپریم لیڈر کرتا ہے اور اسے براہ راست رپورٹ کرتا ہے۔
صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کے ذریعہ جانچ پڑتال کے تابع ہوسکتے ہیں جو نئے قوانین وضع کرتی ہے۔
دوسری طرف گارڈین کونسل جس میں سپریم لیڈر کے قریبی اتحادی شامل ہیں نئے قوانین کی منظوری کے لیے ذمہ دار ہے اور انہیں مسترد کر سکتی ہے۔









