اردو
हिन्दी
جولائی 28, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

خاموش عدالت جاری ،ہندوتووادیوں کی زبان بولتی ہے!

12 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ Uncategorized, فکر ونظر
A A
0
خاموش عدالت جاری ،ہندوتووادیوں کی زبان بولتی ہے!
29
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

حال وطن : اپوروانند
۔ہم  ہندوستان کے کئی علاقوں میں پولیس اور ہندوتوا کے ہجوم کو ایک ہی  طرح سے کام کرتے دیکھ چکے ہیں۔ خصوصی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے معاملے میں۔ لیکن جب عدالت بھی ہندوتوا قوم پرستوں کی طرح استدلال کرنے لگے تو محتاط ہوجانا چاہیے؛ پانی سر سے اوپر جا چکا ہے۔ یہ وارننگ ملی ممبئی اور دہلی کے دو واقعات سے۔ایک واقعہ بامبے ہائی کورٹ کا تبصرہ ہے اور دوسرا دہلی کے نہرو پلیس پر ہجوم کا ردعمل۔ دونوں کا سیاق وسباق غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے کمرے اور دہلی کے نہرو پلیس میں کیا مماثلت ہے؟فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف ہندوستان میں آواز اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے اپنے ہی اتنےمسائل ہیں!’ یہ  کوئی راہ چلتا عام آدمی نہیں بول رہا، درصل، بامبے ہائی کورٹ نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی  اس وقت سرزنش کی جب اس نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت اورنسل کشی کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے عدالت میں ایک درخواست داخل کی۔پولیس نے اس مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد سی پی آئی (ایم) نے عدالت سے اجازت طلب کی تھی۔ عدالت نے اجازت دینا تو دور کی بات ، درخواست گزاروں کو نصیحت تک دے ڈالی کہ وہ ‘محب وطن’ بنیں اور اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔ باہر اتنی دورغزہ میں کیاہو رہا ہے، اس سے انہیں کیا لینا دینا

دنیا بھر کے عظیم فلسفیوں نے حب الوطنی کی جتنی بھی تعریفیں پیش کی ہیں، ان میں تنگ نظری کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ علیحدگی پسندی نہیں ہے۔ کیا لفظ فلسطین میں کوئی ایسی بات ہے جو محب وطن کانوں کو کھٹکتی ہے؟کچھ دوست یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ صرف جج کا بے ساختہ ردعمل تھا اور انہوں  نے اپنے حکم میں یہ نہیں لکھا۔ یہ بے ساختگی ہی  ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ کوئی  کسی کو محب وطن بننے کی  نصیحت دینے کا حق  رکھتاہے، یہی بات باعث تشویش ہونی چاہیے۔ لیکن اس سے بڑھ کر تشویشناک بات یہ ہے کہ جج کہہ رہے ہیں کہ محب وطن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کسی اور سے ہمدردی  کا اظہارنہ کریں
عدالت  نے سی پی آئی (ایم) کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ‘ہمارے ملک میں بہت سے مسائل ہیں۔ … مجھے یہ کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ آپ دور بیں ہیں، آپ غزہ اور فلسطین کو تو دیکھتے ہیں لیکن یہاں کی چیزوں کو نظر انداز کر رہے ہیں، آپ اپنے ملک کے لیے کچھ کیوں نہیں کرتے؟ اپنے ملک کو دیکھیے، محب وطن بنیے، لوگ کہتے ہیں کہ وہ محب وطن ہیں، لیکن یہ  حب الوطنی نہیں ہے۔ پہلے آپ ملک کے شہریوں کے لیے حب الوطنی کا مظاہرہ کیجیے عدالت  کا کہنا تھا کہ پارٹی کو سب سے پہلے کوڑے-کچرے، آلودگی، نالوں وغیرہ جیسے مسائل کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے، اس نے یہ بھی کہا کہ باہر کیا ہو رہا ہے، یہ خارجہ پالیسی کا معاملہ ہے اور اسے حکومت پر ہی چھوڑ دینا چاہئیے ـ ناقدین  نے درست کہا کہ لگتا ہے عدالت آئینی حقوق بھول گئی ہے۔ ہندوستان کے لوگوں کو اپنے خیالات رکھنے اور اظہار کرنے کا پورا حق ہے۔ لوگ یہ حق حکومت کے پاس رہن نہیں رکھ سکتے۔ اسرائیل اور فلسطین پر حکومت کے موقف کی مخالفت کا حق بھی ہندوستانی عوام کا ہے اور اسے چھینا نہیں جا سکتا
ممبئی کی عدالت جو کہہ رہی تھی وہ دہلی کے نہرو پلیس میں ایک بھیڑ بھی کہہ رہی تھی۔ نہرو پلیس میں تقریباً تیس افراد فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم تھے۔ جیسے ہی وہ جمع ہوئے تو آس پاس کی دکانوں سے کچھ لوگ نکل آئے اور فلسطینی پرچم چھین کر پھاڑدیا۔ ‘اپنے ملک کا جھنڈا کہاں ہے؟’، انہوں نے مظاہرین سے پوچھا ـ اس ہجوم کا سوال بامبے ہائی کورٹ کے سوال سے مختلف نہیں تھا۔ ‘اپنے ملک کا جھنڈا دکھاؤ، دوسرے ملک کا جھنڈا کیوں اٹھایا ہے؟’ یہ سوال بامبے ہائی کورٹ کی اس سرزنش سے مختلف نہیں؛’محب وطن بنیے! اتنے ہزار میل دور دوسرے ملک کا مسئلہ کیوں اٹھاتے ہیں ـ بامبے ہائی کورٹ چاہتی ہے کہ سی پی آئی ایم کوڑے-کچرے، بے روزگاری، آلودگی کے بارے میں بات کرے۔ نہرو پلیس کی بھیڑ چاہتی ہے کہ مظاہرین بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی حالت کے بارے میں بات کریں۔ دونوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے
عدالت  اور سڑک کا فرق  مٹ جانا لمحہ فکریہ ہے۔ لیکن دوسری بڑی تشویش ایک نئی حب الوطنی یا قوم پرستی کا بے ساختہ جنم لینا ہے۔ نہرو پلیس کی بھیڑ منظم نہیں تھی۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے لوگ بجرنگ دل یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رکن ہوں۔ فلسطین کا جھنڈا دیکھ کر وہ مشتعل ہو گئے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے عدالت غزہ سے ہمدردی کی بات سن کر مشتعل ہو گئی ہےدونوں ردعمل منصوبہ بند یا منظم نہیں تھے۔ یہ دونوں ردعمل کسی حد تک اسرائیلی ردعمل سے ملتے جلتے ہیں۔ نیویارک ہو یا لندن، سڑک پر کسی کی بھی گردن پر کیفیہ دیکھتے ہی اسرائیلی اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہندوستان میں ایک بہت بڑا طبقہ پیدا ہوگیا ہے جو کیفیہ یا فلسطینی پرچم دیکھتے ہی پرتشدد ہو جاتا ہے ۔ یہ بغیر کسی کوشش اور اپیل کے نہرو پلیس پر جمع ہوگیا۔ وہ بھیڑ مظاہرین سے ترنگا جھنڈا دکھانے کو کہہ رہی تھی۔ جس طرح عدالت سی پی آئی ایم کو حب الوطنی کا مظاہرہ کرنےکے لیے کہہ رہی تھی
کیا اس بے ساختہ ہندوتوا کو بے ساختہ کہنا غلط ہوگا؟ فلسطینی پرچم ہو یا سبز جھنڈا یا برقع یا ٹوپی، ان کو دیکھ کر یا اذان سن کر کوئی مشتعل ہو جائے تو کیا یہ فطری کہلائے گا؟ یہ نہرو پلیس میں فلسطینی پرچم کا ردعمل تھا ـ ہونے  میں 2014 میں کچھ لوگوں نے محسن شیخ کے لباس سے مشتعل ہو کر اسے قتل کر دیا۔ عدالت قاتلوں کے تئیں اس لیے نرم تھی کہ ان کا ردعمل، جو محسن شیخ کے قتل کا باعث بنا، بے ساختہ تھا۔ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ نہیں تھا
سال 2014 سے 2025 تک اس ہندوتوا کے بے ساختہ پن کا دائرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ کچھ خاص طرح کی کی آوازیں، رنگ، عمارتیں اور لباس ایک خاص قسم کے پرتشدد ردعمل کا سبب بنتے ہیں۔ اب یہ اس شخص کے اختیار میں نہیں رہا جو اس پر ردعمل ظاہر کرتا ہے
یہ ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے کے حسی نظام کے سکڑنے کی علامت ہے۔ اور یہ ہندوؤں کے لیے بری خبر ہے۔ کیونکہ انسانی حسی نظام باقی مخلوقات سے اس لحاظ سے مختلف اور نفیس ہے کہ وہ اپنی طبعی اور حیاتیاتی حدود سے ماورا ہے – انسانی حسی نظام زیادہ انسانی کیوں ہے؟ اسے نہ صرف اپنے جسم پر لگنے والی چوٹ سے تکلیف ہوتی ہے بلکہ یہ کسی اور کو لگنے والی چوٹ سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ ویتنام میں نیپلم بم سے جلنے کے بعد بھاگنے والی لڑکی کی تصویر نے ہم سب کو پریشان کر دیا۔ ویتنامی ہونا اس کے لیے شرط نہیں تھا۔ انسانی حسی نظام اپنی جسمانی حدود سے تجاوز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بعد میں ہمدردی تک پہنچ جاتا ہے
یہ صرف رام دھاری سنگھ دنکر کی نظمیں پڑھ کر متاثر نہیں ہوتے ہیں بلکہ محمود درویش کی نظمیں پڑھ کر بھی متاثر ہوتے ہی

ہندوستان میں ہندوؤں کا ایک طبقہ اب ہمدردی کرنے کی صلاحیت سے محروم  ہوتا جارہا ہے۔ وہ بھوک سے نڈھال بچوں یا غزہ کو بمباری سے تباہ ہوتے دیکھ کر پریشان نہیں ہوتے، وہ زور سے ہنستے ہیں۔ ایسی ہنسی سے کون انسان نہیں ڈرے گا؟ یہ قہقہہ اس معاشرے کے غیر انسانی ہونے کی خبر ہے( نوٹ یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

ٹیگ: apoorwanandarticledelhidemonstrationpalistinesilent court،Hindutva،activest

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

جولائی 7, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN