اردو
हिन्दी
اگست 29, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

370اور سی اے اے کے بعدیہ ہے اگلا وار،رہیں ہوشیار!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
370اور سی اے اے کے بعدیہ ہے اگلا وار،رہیں ہوشیار!
82
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی:
جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے اور شہریت قانون میںترمیم کرنے کے بعد اب بی جے پی ایک اور بڑا قدم اٹھانے کی تیاری میں ہے۔ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں سے اس کے اشارے ملنے شروع ہوگئے ہیں۔ دراصل ان دنوں ریاستوں میں بحث ہے کہ ریاستی سرکار یہاں دو بچوں کی پالیسی لا سکتی ہے۔ اطلاع کے مطابق اسٹیٹ لاء کمیشن نے اترپردیش میں آبادی کنٹرول کے لیے قانون کا مسودہ بنانا شروع کردیا ہے ۔ دوسری جانب آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بھی ہفتہ کو کہاکہ ریاستی سرکار کچھ خصوصی سرکاری اسکیموں کا فائدہ دینے میں دو بچہ پالیسی لاگو کرے گی ۔ یہ کام ترتیب وار کیاجائے گا۔

آؤٹ لک کی خصوصی رپورٹ کے مطابق نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے آسام کے وزیراعلیٰ نے کہاکہ مجوزہ آبادی کنٹرول پالیسی کو آسام کی تمام اسکیموں میں فوراً لاگو کیاجائے گا، کیونکہ کئی اسکیمیں مرکز کی مدد سے چلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کچھ اسکیموں میں ہم دو بچہ پالیسی کو لاگو نہیں کرسکتے۔ جیسے اسکولوں اور کالجوں میں مفت اندراج یا پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت مکان دینے میں اسے لاگو نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر ریاستی سرکار کی جانب سے کوئی آواس یوجنا لاگو کی جاتی ہے تو اس میں دو بچہ پالیسی کو لاگو کیا جاسکتا ہے۔ آگے چل کر آہستہ آہستہ آبادی کنٹرول پالیسی کو ریاستی سرکار کی ہر اسکیموں میں لاگو کیاجائے گا۔

وہیں اترپردیش اسٹیٹ لاء کمیشن فی الحال راجستھان و مدھیہ پردیش سمیت دیگر ریاستوں میں لاگو قوانین کے ساتھ سماجی صورت حال و دیگر نکات پر مطالعہ کررہاہے ۔ جلد وہ اپنی رپورٹ تیار کرکے ریاست کی یوگی حکومت سونپے گا۔

این بی ٹی کے مطابق لاء کمیشن کے چیئرمین آدتیہ ناتھ متل نے کہا کہ آبادی ایک دھماکہ خیز مرحلے کے قریب ہے۔ بڑھتی آبادی کے سبب دیگر ایشوز بھی پیدا ہورہے ہیں۔ اسپتال، فوڈ ، گھر یا روزگار سے متعلق مسائل کا سامنا یوپی کے لوگوں کو کرنا پڑ رہاہے ۔ آدتیہ ناتھ متل نے کہاکہ ہمارا ماننا ہے کہ آبادی پر کنٹرول ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ یوپی میں یہ پیغام نہیں دینا چاہتے کہ ہم کسی خاص مذہب یا کسی کے انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ ہم بس یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سرکاری وسائل اور سہولتیں ان لوگوں کو دستیاب ہوں جو آبادی کنٹرول میں تعاون اور مدد کررہے ہیں ۔ لاء کمیشن کے صدر نے کہاکہ آبادی کنٹرول خاندانی منصوبہ سے الگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ قانون بنائے جانے کو لے کر کمیشن نے ملک کے دیگر ریاستوں میں لاگو قوانین و دیگر سماجی صورتحال کو لے کر مطالعہ کرنا شروع کردیا ہے ۔

وہیں اب دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے کو ووٹ دینے کا حق ختم ہونا چاہئے جیسی مانگیں بھی اٹھنے لگی ہیں۔ سادھو سنتوں کی تنظیم اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری نے یوگی حکومت کے ذریعہ آبادی کنٹرول کے لیے تیار کئے جارہے قانونی مسودے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہاکہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے شخص کو ملک میں ووٹ دینے کا حق ختم ہوناچاہئے۔

پیر کے روز پریشد کے صدر مہنت گری نے کہا کہ سادھو سنت پہلے سے ہی یہ مانگ کرتے آئے ہیں کہ ملک میں لگاتاربڑھ رہی آبادی پر قابو پایاجائے۔ آبادی میں اضافے کوقانون لاکر روکا نہیں گیا تو آنے والے دنوں میں بڑی آبادی دھماکہ خیز ہو سکتی ہے ۔ آبادی کنٹرول قانون کے تحت یہ یقینی کیا جانا چاہئے کہ تمام مذاہب کو آبادی کنٹرول پر توجہ دینا چاہئے۔ آبادی کنٹرول سے آنے والے کئے مسائل سے نجات ملے گی۔ مہنت نریندر گری نے کہاکہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے شخص کو بھارت میں ووٹ دینے کا حق ختم کردینا چاہئے اور سرکار سے ملنے والے تمام سہولتوں سے محروم کردیاجانا چاہئے۔ ایسے لوگوں کا ووٹر کارڈ اور آدھار کارڈ بھی نہیں بننا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی ایسے لوگوں کو سرکار سے ملنے والے تمام سہولتوں سے بھی محروم کیا جانا چاہئے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
Damaged bus in Nepal after attack on Indian passengers

نیپال میں کتنے ہندو کتنے مسلمان ہیں؟

ستمبر 11, 2025

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN