"آر ایس ایس دراصل ایک نظریاتی و تہذیبی تحریک ہے۔ہندوستان کی شناخت، اس کی اجتماعی امنگ، اس کےاخلاقی تصور اور اس کے اجتماعی ذہن اور حافظے کو یک رنگ ہندو پہچان میں ڈھالنا اُس کا اصل نصب العین ہے”۔ معروف دانشور اورجماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے آر ایس ایس کے سوسال مکمل ہونے کے پس منظر میں ایک مفصل خصوصی انٹرویو میں کھل کر اپنے خیالات بتائے اور مسلمانوں کو اہم مشورے بھی دیے
انہوں نے اس کی مزید وضاحت میں کہا کہ اس تحریک کا اصل محرک یا نفسیاتی ایندھن وہ ہے جسے میں ‘اجتماعی حسد’ collective envyکہتاہوں۔ابراہیمی مذاہب اور خصوصاً اسلام کی طرح ہندوروایات کی اساس پر ایک منظم نظام فکر، ایک ہمہ گیر تہذیب اور ایک عالمگیر کمیونٹی ہے یہ تحریک اصلاً ان حسرتوں کی پیداوار ہے اس لیے بعض لوگوں نے اس کے تصورات کو بجا طور پر ہندو مذہب کا سامی کرن semitization of Hinduism کہا ہے۔بعض لوگ اسے محض ایک فرقہ پرست تحریک سمجھتے ہیں، بعض آرایس ایس کو امریکہ و جنوبی افریقہ کی نسل پرست تحریکوں کا ہندوستانی ورژن مانتے ہیں اور بعض برہمن بالادستی کی کوششوں کا تاریخی تسلسل باور کرتےہیں۔ میری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ یہ سب عوامل اس تحریک میں موجود ضرور ہیں لیکن
مسلمانوں کے نسلی وجسمانی وجود سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن مسلمانوں کے فکر و نظریے اور ان کی تہذیب کی حیثیت اس پوری تحریک کےلیے اصل حریف کی ہے۔ان کی لڑائی مسلمانوں کے جسمانء وجود سے نہیں ، ان کے ذہن mindسے ہے ۔ وہ ذہن جو غالب تہذیبی دھارے میں گھل جانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا(جسمانی حملے بھی اصلاً تہذیبی زیر دستی کے لیے ہیں)۔ان کا مطمح نظر ایک ایسا ہندوستانی مسلمان فرقہ ہے جو اجتماعی نسیان collective amnesiaکو اختیارکرکے اپنے تہذیبی ورثے اور اپنی امتیازی قدروں کو فراموش کردے۔ تہذیبی وفکری خو داعتمادی سے محروم ہوکر ہندو رنگ میں رنگی ہوئی قومی شناخت کے دائرے میں سوچنے، بولنے، محسوس کرنے اور خواب دیکھنے لگے۔
سنگھ کی سوسالہ جہدوجہد اور کامیابیوں کے اسباب کے تعلق سے کئے گئے اہم سوال کے جواب میں امیر جماعت نے کھل کر کہا کہ تین بڑے عوامل ہیں۔ پہلا عامل اُن کی بعض اندرونی خصوصیات ہیں۔ مضبوط تنظیم، گہری اورطویل المیعاد منصوبہ بندی، نظم و ضبط کا پابند تربیت یافتہ کیڈر، ہندو سماج کے مختلف طبقات تک تدریجی رسائی کا ہنر، اختلاف رکھنے والوں کو بھی اپنے دائرے میں لانے کا فن، ہر طرح کے حالات میں خاموشی،صبر اور استقلال کے ساتھ اپنے مقاصدکے لیے جدوجہد ، وغیرہ جیسی مثبت خصوصیات کے ساتھ عیاری و موقع پرستی ،مکر وفریب اور طاقت کے بے جا استعمال جیسی خصوصیات نے بھی ان کو مادی فائدے پہنچائے۔دوسرے ،کچھ تاریخی اتفاقات ہیں جن کوچستی اور چالاکی کے ساتھ، ماہرانہ حکمت عملی کے ذریعے انہوں نے اپنے لیے سازگار بنالیا امیر جماعت کے مطابق سب سے اہم ، ان کے حریفوں کی متعدد غلطیاں ، غلط رویے اور کوتاہیاں ہیں جنہوں نے ان کے لیے خلا پیدا کیا اورسازگار مواقع ان کی گودمیں لاکر ڈالے۔ ان میں کانگریس اور متعدد سیکولر سیاسی پارٹیوں کی موقع پرستی اور کرپشن بھی شامل ہے، سوشلسٹ ،دلت اور کمیونسٹ تحریکوں کی نظریاتی پسپائی و پژمردگی اور انتشار کا بھی دخل ہے او پھرخود مسلمانوں کی دفاعی سیاست،جذباتی ردعمل اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا اہم کردار ہے۔
سعادت اللہ حسینی نے اس سوال پر کہ بھارتی جمہوریت اور سیکولر آئین کے اندر آخر اس نے کیسے جگہ بنالی؟اپنے جواب میں کہا کہ سیکولر ریپبلک میں بظاہر اس کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔لیکن بتدریج اس نے جگہ بنانی شروع کی۔ ایمرجنسی تک کا دور وہ تھا جسے میں کیموفلاج دور کہتا ہوں۔ آرایس ایس نے بہروپ اختیار کرنے کا فن سیکھ لیا تھا۔ خدمت کے ذریعے سماج میں جگہ بنانا، مسلسل پروپگنڈے کے ذریعے ذہنوں کو مسخر کرنا اور proxies کے ذریعے مراکزاقتدار میں نفوذ کرنا اس دور کی حکمت عملی کا خلاصہ تھا۔ تینوں اہداف اس نے بڑی مہارت کے ساتھ حاصل کیے
بابری مسجد کے خلاف تحریک اور انہدام کے بعد سنگھ کے طاقتور ابھار کے تعلق سے سوال پر مسٹر حسینی نے کہا کہ 1992میں رام جنم بھومی تحریک کے دوران اس نےاسٹریٹ پاور کا تجربہ کیا اور بعد میں اس تجربے کو بڑے پیمانے پر عوامی موبلائزیشن کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔اسی دوران الگ الگ راستوں اور الگ الگ حکمت عملی سے اس نے ہندوستان کے پیچیدہ سماجی نظام میں ہر طبقے کے اندر نفوذ حاصل کیا۔ 2014کے بعد سے ریاست اور سماج کو یکجا کرنے کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔حکومت، پارٹی، بیوروکریسی، بزنس، میڈیا سب کو یک زبان کرنے میں اسے بڑی کام یابی ملی
آر ایس ایس کی طرف سے مسلمانوں کے سامنے سب بڑا چیلنج کیاہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ ،اس سوال پر امیر جماعت کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ مسلمان چیلنج کی اصل نوعیت کو سمجھیں۔ ان کے حالات نہ تو بالکل امریکہ کے سیاہ فاموں کے حالات سے مشابہ ہیں اور نہ فسطائی جرمنی کے یہودیوں کے حالات سے۔ نہ ہندوستان میں دلتوں کی تاریخ سے ان کے لیے کوئی ماڈل فراہم ہوسکتا ہے اور نہ آزادی کے بعد کے مختلف ادوار میں خود ان کی مظلومیت کی تاریخ ان کے لیے مکمل سبق فراہم کرسکتی ہے۔ یہ بالکل منفرد چیلنج ہے اور منفرد ریسپانس چاہتا ہے۔ اس کے ڈائنامکس کو گہرائی میں جاکر سمجھے بغیر اس کا سامنا کرنا ممکن نہیں ہے
اس چیلنج کا سب سے اہم پہلو نظریاتی و تہذیبی ہے۔بدقسمتی سے اسی پہلو کا شعور بہت کمزور ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا نظریاتی و تہذیبی تشخص اور خوداعتمادی کا خاتمہ ان کااصل ہدف ہے۔ اس ہدف کے لیے سب سے موثر وسیلہ طاقتور بیانیے narrative demonisation ہے۔سیاسی، معاشی، تہذیبی ، نفسیاتی ہر محاذ پر نریٹیو وار کے ذریعے ملت کوالگ تھلگ کردینا اور تہذیبی اعتبار سے ہمہ گیر شکست سے دوچار کرنا ، اصل ہدف ہے۔ سیاسی محاذ پر مسئلہ اب نمائندگی کی کمی تک محدود نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ مسلمانوں کے سیاسی وجود ہی کو ناجائز بنادینے delegitimization کا ہے۔
اس کے مقابلے کی ایک ہی شکل ہے کہ مسلمان ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئیں جو ملک کےتمام انسانوں کے لیے عدل و قسط کے واضح ایجنڈے کی اساس پر استوار ہو۔
سنگھ سے ڈائیلاگ کے تعلق سے سعادت اللہ حسینی کا خیال ہے کہ ابھی تک کے تجربات بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ کھلی اور ایمان دارانہ بات چیت کے بجائے اصل دلچسپی آپٹکسoptics میں محسوس ہوتی ہے یعنی مواقف اور احوال پر صحت مند مذاکرات کی بجائے محض امیج کو بہترکرنے کی کوشش پر ارتکاز ہے۔۔ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ ڈائیلاگ نہیں بلکہ مطیع بنانے کی مہم ہے۔ مسلمان بولیں کچھ نہیں، صرف سنیں اور اطاعت کریں۔ یہ ڈائیلاگ نہیں طاقت کا مونو لاگ ہے۔مکالمہ نہیں حکم نامہ ہے۔ ڈائیلاگ ہونا چاہیے لیکن سچائی اور انصاف کی کم سے کم کچھ آفاقی قدروں پر مکمل اور غیر متزلزل اتفاق، ڈائیلاگ کی پہلی شرط ہےجماعت اسلامی ہند ہمیشہ سے ملک کے ہر طبقے کے ساتھ بامعنی اور اصولی مذاکرات کی قائل رہی ہے، اور اس کے لیے مسلسل کوشاں بھی ہے۔
ملک کے بدلتے حالات ،آر ایس ایس کے بڑھتے اثرات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے،بیانیہ کیا ہو ؟اس پر امیر جماعت کا کہنا تھا کہ صرف بیانیہ نہیں ، مجموعی رویے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ دفاع و تحفظ کی ذہنیت یا سروائیول مائنڈ سیٹsurvival mindset سے نکلنا ہوگا۔ ان حالات کو ٹھوس اندرونی تبدیلی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ اجتماعی نفسیات کے نظریات یہ بتاتے ہیں کہ نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہمیشہ بڑے چیلنجوں existential challenges سے ہوتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو ایک عظیم نشاۃ ثانیہ کے لیے قدرت نے زمین فراہم کردی ہے۔ اس زمین پر تخم ریزی ان کی اصل ذمے داری ہے۔ ان حالات کے مقابلے کے لیے ،میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ تین طرح کے تعمیری کاموں کے لیے مسلمانوں کو مرکوز ہوجانا چاہیے۔ بیانیوں کی تعمیر narrative building تعاون و اشتراک کے محاذوں کی تعمیر alliance building اوراداروں کی تعمیر institution building ۔ صبر کے ساتھ ان تعمیرات پر مسلمانوں کا ارتکاز ہی ان کو اس سراب سے نکال سکتا ہے۔ میں نوجوانوں کوہمیشہ یہ نعرہ دیتا ہوں: renaissance through resilience۔۔یہی اس وقت ہمارے اجتماعی رویے کا اصل عنوان ہونا چاہیے۔ وقتی ایشوز پر رد عمل کی بجائے ٹھوس طویل المیعاد تبدیلی پر ارتکاز ہونا چاہیے۔ تعمیرو تنظیم کے ہدف کو سامنے رکھ کر خاموش، سنجیدہ جدوجہد اور بہتر مواقع کا انتظار ، یہ حکمت عملی کا نچوڑ ہے۔(ہفت روزہ دعوت میں شائع انٹرویو کا اختصار)








