اردو
हिन्दी
اپریل 23, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

طالبان کی پیش قدمی سے پینٹاگن پریشان

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
طالبان کی پیش قدمی سے پینٹاگن پریشان
38
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

امان اظہر، واشنگٹن

ماہرین کا خیال ہے کہ بائیڈن انتظامیہ امریکی حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کے علاوہ افغان سیاسی قیادت کو ملکی مستقبل کے بارے میں اپنے اختلافات کو دور کرنے کی ترغیب دلائے گی۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی افغان اعلیٰ قیادت سے ملاقات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہی ہے جب طالبان ملک کے مختلف علاقوں پر افغان سیکورٹی فورسز کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں متعدد شہروں پر حملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ افغان سیکورٹی فورسز امریکی فورسز کی عدم موجودگی میں طالبان کی کارروائی کا مقابلہ نہیں کرسکیں گی۔ بائیڈن انتظامیہ نے 11 ستمبر تک افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کیا ہے، لیکن بائیڈن انتظامیہ کی افغانستان سے دستبرداری کی پالیسی حریف سیاسی کیمپوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بن رہی ہے ، جو وائٹ ہاؤس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ انخلا کے بعد کے متبادل پر غور کریں۔

22 جون کو ریپبلکن قانون ساز لنڈسے گراہم نے ایک ٹویٹ میں انخلا کے بعد کے انتظامات میں پاکستان کو شامل نہ کرنے پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے سینیٹر نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کا امریکی افواج کا پاکستان کے ساتھ معاہدے کے بغیر انخلا کا فیصلہ عراق سے بھی بدتر ثابت ہوسکتا ہے۔

ابھی تک، وائٹ ہاؤس نے اپنی افغان پالیسی پر تنقید پر کھلے عام رائے دینے سے گریز کیا ہے۔ افغانستان امور کے ماہر اور تجزیہ کار مارون وائن باؤم کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز کے مکمل انخلا کے بارے میں انتظامیہ کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، امریکی فوج انخلا کی مخالف ہے۔ اور کچھ اشارے یہ بھی ملے ہیں کہ محکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی بائیڈن کو افغانستان سے عجلت میں انخلا کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ لیکن بائیڈن مختلف رائے سننے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔

مارون وائن باؤم نے مزید کہا کہ ایک اور اہم مسئلہ افغان سیاسی اشرافیہ کے مابین جاری اختلافات ہیں جو سیاسی حکمرانی کے معاملات میں آپس کے اختلافات دور کرنے سے قاصر ہیں ، جس سے طالبان کو فائدہ بھی ہوا ہے اور انہوں نے افغان سیاستدانوں کی اس نا اہلی سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مارون وائن باؤم نے کے بقول، ’’حکومت کو زیادہ خطرہ سیاسی عمل کی ناکامی سے ہے کابل پر طالبان کے قبضے سے نہیں ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ صدر غنی کی قیادت اب تک حل کی بجائے مسئلے کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

ولسن سینٹر سے منسلک جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگل من نے کہا،’ غنی اور عبداللہ بائیڈن کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بائیڈن کو کہتے ہوئے سننا چاہتے ہیں کہ امریکا ترقیاتی امداد ، امن عمل کے لیے سفارتی مدد ، اور سب سے اہم بڑھ کر افغان فوج کے لیے مالی امداد فراہم کرتا رہے گا۔ وہ ایک ایسی فکر مند عوامی اور سیاسی قیادت کو یقین دلانے کی پوزیشن میں افغانستان واپس آنا چاہیں گے جب فوجیوں کے انخلا کے بعد امریکہ افغانستان کو ترک نہیں کرے گا۔‘کوگل من نے کہا امریکا افغانستان میں اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔ وہ ایک اہم ملک تو رہے گا ، خاص طور پر اس کی مالی اور سفارتی طاقت کی وجہ سے، لیکن فوجی طاقت نا ہونے کا اس پر اثر ہو گا۔

کُوگل من نے اس امر سے اتفاق کیا کہ بائیڈن کا ستمبر تک تمام فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ واشنگٹن میں متنازعہ تھا ، کیونکہ اس اقدام کے حق میں بہت کم اتفاق دیکنے میں آیا تھا۔ ان کے بقول،’ کیپٹل ہل پر انخلا کے طاقتور مخالفین کا غلبہ ہے، اور وسیع تر سیاسی و عسکری قیادت میں بھی۔ اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنے فیصلے پر توجہ مرکوز کریں ، اور یہ دیکھیں کہ کس طرح اس فیصلے کو بہتر بنایا جا سکتا ہے‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ،’’افغانستان میں بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر ، انہیں یقین ہے کہ بائیڈن انتظامیہ افغانوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی جب کہ وہ ابھی بھی وہاں موجود ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ستمبر میں پُل آؤٹ کا وقت کم کرنا۔‘‘

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’امریکی حکومت افغانستان کی امداد جاری رکھے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ یہ ملک کبھی بھی دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نا بن پائے جو امریکا کے لیے خطرہ ہو۔ ‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا امن عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور تمام افغان فریقوں کو تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں معنی خیز حصہ لینے کی ترغیب دیتا ہے۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN