اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

"جیت طارق رحمان کی لیکن مضبوط جماعت اسلامی کی طاقت”، بنگلہ دیشی میڈیا ایسا کیوں کہہ رہا ہے؟

4 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
Tariq Rahman Win Jamaat Strength
4
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی ہے اور جماعت اسلامی مرکزی اپوزیشن کے طور پر سامنے آئی ہے۔
300 نشستوں میں سے اکیلے بی این پی نے 209 اور اس کے اتحادیوں نے تین نشستیں حاصل کیں۔ جماعت اور اس کے اتحادیوں نے 77 نشستیں حاصل کیں۔
جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جو طلبہ تحریک سے پیدا ہوئی ہے، نے 2024 میں چھ نشستیں حاصل کی ہیں بی این پی کی بھاری اکثریت سے جیت کو بنگلہ دیشی میڈیا میں ’’سپر میورٹی‘‘ کہا جا رہا ہے۔ اب یہ یقینی سمجھا جا رہا ہے کہ بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان ملک کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔
بنگلہ دیش کے میڈیا میں طارق رحمن کی انتخابی جیت کا بڑے پیمانے پر چرچا ہو رہا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ یہ جہاں BNP کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے، وہیں یہ حالیہ دنوں میں "ایک ایسے ملک کو لانے کا چیلنج بھی پیش کرتا ہے جو تیزی سے پولرائزڈ ہوتا جا رہا ہے۔”مقامی میڈیا یہ بھی بحث کرتا ہے کہ جماعت اسلامی بی این پی سے بہت پیچھے رہ گئی، دوسرے نمبر پر آکر اس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
مزید برآں، میڈیا بی این پی کی حکومت کے قیام کے بعد ملک کی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں پر بھی بات کر رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے معروف انگریزی اخبار ڈیلی سٹار نے dailystar نے عام انتخابات میں بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کو ملکی سیاست میں ایک "ٹرننگ پوائنٹ” قرار دیا ہے۔
اخبار نے لکھا، "طارق رحمان نے عوام کے سامنے جوابدہ اور تمام شہریوں، حتیٰ کہ ناقدین کے لیے بھی حساس حکومت بنانے کے عزم کے ساتھ لاکھوں لوگوں کا اعتماد جیتا۔ لندن میں تقریباً دو دہائیوں کی جلاوطنی کے باوجود، انہوں نے اپنی والدہ، سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی قید کے بعد بھی پارٹی کو متحد رکھنے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔”
"اس نے نوجوان رہنماؤں کو فروغ دے کر، نچلی سطح پر ڈھانچے کو دوبارہ منظم کر کے، اور شیخ حسینہ کی قیادت میں اس وقت کی حکمران عوامی لیگ کے دباؤ کے درمیان اپنے کارکنوں کے حوصلے کو برقرار رکھ کر بی این پی کو تقویت بخشی۔”
"انہوں نے طالب علم کی زیرقیادت کوٹہ مخالف تحریک اور حسینہ کی معزولی کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری انتظامیہ کی تشکیل کی حمایت کی۔ ایک وقتی اصلاحاتی ایجنڈا اور 2025 کے اندر انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے، وہ بالآخر پروفیسر یونس کی تجویز کردہ فروری کی ڈیڈ لائن پر متفق ہو گئے۔”
بنگلہ دیش کی نیوز ویب سائٹ بونک بارتا نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے بی این پی کے رہنما امیر خسرو محمود چودھری کا ایک بیان شائع کیا۔
ویب سائٹ کے مطابق، جمعے کی شام، بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے رکن امیر خسرو محمود نے بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ دیا۔خسرو محمود نے صحافیوں کو بتایا، "مستقبل میں بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کسی خاص ملک پر مرکوز نہیں ہوگی۔ تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ۔
ایک اور معروف انگریزی اخبار Dhaka tribune ڈالی ٹریبیون نے لکھا "طارق رحمان کی صورت میں بی این پی کی نئی قیادت کے سامنے چیلنج بہت واضح ہے- ‘اس کو نتائج دکھانا ہوں گے۔
بی این پی کی نئی قیادت کو درپیش چیلنج واضح ہے: ’’اسے ڈیلیور کرنا چاہیے۔‘‘اخبار کے مطابق، "بی این پی کو ‘ونر لیز آل’ سیاست کی تلخ روایت کو ترک کرنا چاہیے۔ اپنے مینڈیٹ کو برقرار رکھنے کے لیے اسے اپوزیشن کے عقلی دلائل کو سننا چاہیے اور اختلاف رائے کے لیے ضروری جگہ کو یقینی بنانا چاہیے۔ اسے آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی اقدار کو بھی برقرار رکھنا چاہی
جماعت کے عروج کے حوالے سے انہوں نے لکھا، "کچھ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جماعت نے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اس کے برعکس، وہ اس الیکشن میں بڑے فائدے کے طور پر ابھری ہے۔ ایک ایسی جماعت جس نے تاریخی طور پر کبھی 18 سے زیادہ نشستیں نہیں جیتی تھیں، اب اپنی موجودگی کو چار گنا کر دیا ہے۔”
"جماعت نے وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے اور اپنانے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پچھلی دہائیوں کے دوران، اس نے سیاسی فائدے کے لیے اپنے روایتی حریفوں سے بھی ہاتھ ملایا ہے۔ 1994-1996 کی تحریک کے دوران عوامی لیگ کے ساتھ اس کا اتحاد، 2001 میں BNP کے ساتھ اس کی اقتدار میں شراکت، اور NCP کی حالیہ حکمت عملی اس کی حالیہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔”

ٹیگ: Bangladesh PoliticsIndia NewsJamaat e Islamipolitical analysisTariq Rahmanبنگلہ دیش میڈیا تجزیہجماعت اسلامی طاقتسیاسی صورتحالطارق رحمان جیت

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر
خبریں

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

22 اپریل
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے
خبریں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

21 اپریل
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ
خبریں

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

21 اپریل
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN