ایران، اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایران کی جانب سے کلسٹر بموں سے لیس بیلسٹک میزائلوں کے استعمال نے صورتِ حال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جب ایرانی میزائل فضا میں بلند مقام پر پہنچتے ہیں تو ان کے وار ہیڈ سے درجنوں چھوٹے بم الگ ہو کر بڑے علاقے میں بکھر جاتے ہیں، یہ چھوٹے بم رات کے آسمان میں نارنجی چمک دار ذرات کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں اور مختلف مقامات پر گر کر دھماکے کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کے زیادہ تر بیلسٹک میزائل تقریباً 24 چھوٹے بم لے جا سکتے ہیں، جبکہ ایران کے طاقت ور خرمشہر میزائل میں 80 تک سب میونیشنز نصب کی جا سکتی ہیں، ہر بم میں تقریباً 11 پاؤنڈ دھماکا خیز مواد ہوتا ہے
حقیقی جائزوں کے مطابق ایسے حملوں میں بم کئی میل کے علاقے میں بکھر جاتے ہیں اور گھروں، سڑکوں، کاروباری مراکز اور پارکوں پر جا گرتے ہیں، گزشتہ ہفتے تل ابیب کے نواح میں ایک بم کے دھماکے میں 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق موجودہ جنگ میں ایران کی جانب سے فائر کیے گئے تقریباً نصف بیلسٹک میزائل کلسٹر میونیشنز سے لیس تھے، ان چھوٹے بموں کو روکنا اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ان کا سائز چھوٹا اور رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اس حکمتِ عملی کے ذریعے ناصرف اسرائیلی دفاعی نظام کو چکمہ دینا چاہتا ہے بلکہ مہنگے میزائل انٹرسیپٹرز کو زیادہ استعمال کروانے کی کوشش بھی کر رہا ہے، جس سے اسرائیل پر معاشی اور نفسیاتی دباؤ بڑھ سکتا ہے
اسرائیلی فوج نے شہریوں کو ہدایت فوج نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ میزائل حملے کے سائرن ختم ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک پناہ گاہوں میں رہیں کیونکہ چھوٹے بم کچھ دیر بعد بھی زمین پر گر سکتے ہیں کے بعد بھی چند منٹ تک پناہ گاہوں میں رہیں کیونکہ چھوٹے بم کچھ دیر بعد بھی زمین پر گر سکتے ہیں
•••اب تک کتنا نقصان ہوا؟
اس جنگ میں اب تک ایران اپنے آدھے سے زیادہ بیلسٹک میزائلوں میں کلسٹر بم نصب کر چکا ہے۔ 9 مارچ کو ہونے والے ایک حملے میں، ایک بم تل ابیب کے مضافات میں گرا، جس میں دو مزدور ہلاک ہو گئے جو پناہ گاہوں میں نہیں تھے۔ ایک اور حملے میں شمالی تل ابیب اور اس کے آس پاس کار واش، گھروں اور ایک پارک پر گولے گرے، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ سائرن کی آواز کے بعد چند منٹ کے لیے پناہ میں رہیں اور نہ پھٹنے والے بموں کے قریب جانے سے گریز کریں۔
ایران کی نئی حکمت عملی کیا ہے؟
اس سے قبل ایران ایک ساتھ درجنوں میزائل داغ کر اسرائیل کے دفاع کو زیادہ بوجھل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ تاہم، اب جب کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کی میزائل لانچنگ کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے، وہ کم میزائلوں سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔کلسٹر وار ہیڈز والے میزائل دفاع کو نظرانداز کرتے ہیں، شہریوں کو پناہ گاہوں میں مجبور کرتے ہیں، معیشت پر بوجھ ڈالتے ہیں، اور اسرائیل کے انٹرسیپٹر کے ذخیرے کو ختم کرتے ہیں۔ ماہر N.R. جینزین جونز کا کہنا ہے کہ ی ہتھیار بنیادی طور پر عوام میں خوف پیدا کرنے اور حوصلے پست کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، فوجی مقاصد کے لیے نہیں۔
ایران کے 5 کلو گرام کلسٹر بم اب اسرائیل کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ یہ چھوٹے بم ایک بڑے علاقے میں پھیل گئے، جو تباہی کا باعث بنتے ہیں اور اسرائیل کے فضائی دفاع کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ جنگ اب صرف میزائلوں کی نہیں رہی بلکہ ایک نفسیاتی اور معاشی جنگ بن چکی ہے۔







