واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں متوقع مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طے شدہ سوئٹزرلینڈ دورہ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق دورے کے شیڈول میں تبدیلی انتظامی وجوہات کی بنا پر کی گئی، تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدہ صورتحال اور اسرائیل و ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ نے مذاکرات کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔ ایران نے بھی موجودہ حالات میں براہِ راست بات چیت کے عمل کو روکنے کا اشارہ دیا ہے، جس کے بعد سفارتی کوششوں کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان جاری رابطوں اور ممکنہ مذاکراتی پیش رفت میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
اسرائیل نے بڑھایا بحران: جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام
الجزیرہ اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، اس سفارتی تعطل کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں کی جانے والی حالیہ بمباری ہے۔ اگرچہ امریکہ اور ایران کے معاہدے میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے کا کہا گیا تھا، لیکن اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق، گزشتہ رات اسرائیلی فضائیہ کے حملوں میں نبطیہ ڈسٹرکٹ میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایران نے اسے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک زمین پر حالات نہیں بدلتے، وہ اگلے مرحلے کی میز پر نہیں بیٹھیں گے۔










