تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے لیے نئے ضوابط متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت جہازوں کو مناسب انشورنس کوریج کی تفصیلات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایرانی حکام کو کم از کم 48 گھنٹے قبل اپنی آمد اور گزرنے کی اطلاع دینا ہوگی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بحری سلامتی کو بہتر بنانا، ممکنہ خطرات کی بروقت نگرانی اور خطے میں جہاز رانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ اور عالمی بحری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی نئی پابندی یا انتظامی شرط کے عالمی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی شپنگ کمپنیوں میں کھلبلی اور امریکہ کا ردِعمل
آبنائے ہرمز سے پوری دنیا کا تقریباً 20 فیصد خام تیل گزرتا ہے۔ ایران کی اس نئی شرط کے بعد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ "48 گھنٹے پہلے نوٹس” دینے کی شرط سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت سست پڑ جائے گی اور لاجسٹکس کے اخراجات میں بھاری اضافہ ہوگا۔
واشنگٹن میں پینٹاگون اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس پیش رفت پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ایران کی یہ نئی شرائط بین الاقوامی سمندری قوانین (UNCLOS) اور حال ہی میں سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے گئے 14 نکاتی عبوری معاہدے کی روح کے خلاف ہیں یا نہیں۔










