واشنگٹن/جنیوا — سوئٹزرلینڈ میں جاری امن مذاکرات اور پاکستان کی طرف سے دونوں ممالک کو ایک میز پر لانے کی کوششوں کے درمیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے خلاف سخت ترین اقتصادی موقف اختیار کر لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا اور وائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ میں واضح وارننگ دی ہے کہ اگر اگلے 60 دنوں کے اندر ایران کے ساتھ جامع اور حتمی معاہدہ طے نہیں پاتا، تو امریکہ ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر بھاری محصولات اور ٹیکس نافذ کر دے گا۔
ٹرمپ کی ‘ٹروتھ سوشل’ پوسٹ: 60 دن کی مہلت
صدر ٹرمپ نے اپنے روایتی انداز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک طویل پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا:
"ایران یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے یا یورپی ممالک کو ڈرا کر بلیک میل کر سکتا ہے۔ ہم جنیوا میں بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن میری انتظامیہ گولی چلائے بغیر ایران کی معیشت کو مفلوج کرنا جانتی ہے۔ اگر اگلے 60 دنوں میں ہمارے مطالبات کے مطابق فائنل ڈیل نہ ہوئی، تو امریکہ ایرانی تیل، کارگو اور ان کے اتحادیوں پر ایسا ٹیکس لگائے گا جو تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔”
پولیٹیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی اس "ٹیکس پولیٹکس” کا مقصد ایرانی معیشت پر اتنا دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی فوری ختم کرنے پر مجبور ہو جائیں۔










