واشنگٹن— خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں جاری شدید ترین کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی منصوبوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ جنیوا امن مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اور ٹرمپ کی طرف سے ایران کو دیے گئے 60 دن کے الٹی میٹم کے بیچ، امریکی سینیٹ ( نے صدر کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ایک تاریخی قرارداد پاس کر دی ہے۔ اس قرارداد کے تحت صدر ٹرمپ پارلیمنٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگ یا باقاعدہ عسکری کارروائی کا آغاز نہیں کر سکتے۔
قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
"امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے حق میں ہے، لیکن اس کا فیصلہ صرف ایک شخص اوول آفس میں بیٹھ کر نہیں کر سکتا۔ آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، اور ہم صدر ٹرمپ کو ہرمز بحران کی آڑ میں یکطرفہ جنگ شروع کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔”
صدر ٹرمپ کا غصہ: "یہ امریکہ کی کمزوری دکھانے کی کوشش ہے”
امریکی سینیٹ سے لگنے والے اس بڑے جھٹکے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر فوری ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ یہ قرارداد تہران کے حوصلے بلند کرے گی۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ جب ایران آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی معیشت کو بلیک میل کر رہا ہو، ایسے وقت میں سینیٹ کا یہ فیصلہ "امریکہ کی کمزوری” کو ظاہر کرتا ہے۔










