دوحہ/واشنگٹن: خلیج فارس میں تین روز تک جاری شدید فوجی کشیدگی کے بعد ایران اور امریکہ نے عارضی طور پر فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک جنگ جیسے حالات سے بچنے اور آبنائے ہرمز کے بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کریں گے۔
فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق
رائٹرز کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے فی الحال تمام فوجی حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ معمول پر آ سکے۔ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے بجائے قطر میں ہوں گے مذاکرات
ابتدائی طور پر یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے تھے، تاہم حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد اجلاس کا مقام تبدیل کرکے قطر کر دیا گیا۔ اب مذاکرات کا مرکزی موضوع آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والا بحران اور سمندری راستوں کی بحالی ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی تکنیکی ٹیم کے سربراہ نک اسٹیورٹ بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ اس سے قبل سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی لیک لوسرن سمٹ میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی۔










