بجنور: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے رام مندر چندہ مبینہ خردبرد معاملے پر اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو نشانہ بنایا۔ مغربی اتر پردیش کے بجنور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر رام مندر ٹرسٹ میں کوئی مسلمان شامل ہوتا تو اب تک اس کا "انکاؤنٹر” ہو چکا ہوتا اور اس کے گھر پر بلڈوزر بھی چل چکا ہوتا۔
"ملزم مزے کر رہے ہیں”
اویسی نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں کارروائی سست روی کا شکار ہے اور پولیس اہم ملزمان کی تحویل بھی نہیں مانگ رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرسٹ میں کوئی مسلمان ہوتا تو حکومت اس کے خلاف فوری سخت کارروائی کرتی، جبکہ موجودہ ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں۔
چمپت رائے کا بھی ذکر
اویسی نے رام جنم بھومی ٹرسٹ کے سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی آرام سے ہیں، حالانکہ چندہ معاملہ سامنے آنے کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس سے قبل بھی اویسی سوال اٹھا چکے ہیں کہ کیا اس کیس کے ملزمان کے خلاف بھی ویسی ہی کارروائی ہوگی جیسی اتر پردیش میں بعض دیگر مقدمات میں دیکھی جاتی ہے۔









