تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے عالمی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی اور آئل بردار جہازوں کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ سے بلا معاوضہ آمدورفت صرف آئندہ 60 دن تک جاری رہے گی، جس کے بعد نئی شرائط نافذ کی جا سکتی ہیں۔
جہازوں کو ایران کے مقررہ راستے پر چلنے کی ہدایت
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستہ اختیار کرنا ہوگا، جو جزیرہ لارک (Larak Island) کے قریب سے گزرتا ہے۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی جہاز متبادل راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اس کے پاس ہے، نہ کہ امریکی فوج کے پاس۔
60 دن بعد کیا ہوگا؟
ایرانی ذرائع کے مطابق آئندہ 60 دن تک جہازوں سے کسی قسم کی فیس یا ٹول وصول نہیں کیا جائے گا، تاہم اس مدت کے بعد تہران چاہتا ہے کہ عالمی برادری آبنائے ہرمز پر اس کے اختیار کو تسلیم کرے۔ اطلاعات کے مطابق ایران مستقبل میں اس بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول یا دیگر چارجز عائد کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔
ایران کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس نے ایک روز قبل واضح کیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تازہ اعلان کے بعد عالمی توانائی منڈیوں اور خلیجی خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔









