پٹنہ :
بہار سرکار میں اقلیتی امور کے وزیر زماں خاں کا کہنا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد ہندو راجپوت تھے، لیڈر نے تبدیلی مذہب کے معاملے پر کہاکہ آپ بھی جانتے ہیں کہ کوئی بھی کسی کا بھی جبراً مذہب تبدیل نہیں کرسکتا ہے۔ لیڈر نے کہاکہ تبدیلی مذہب پیار سے کسی کو سمجھاکر کیا جاسکتا ہے ۔ لیڈراپنی ہی مثال دینے لگے کہ وہ راجپوت تھے ، ان کے آباؤ اجداد نے اسلام قبول کیا ، اس لئے آج وہ مسلمان ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر کوئی اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اس میں کو ئی حرج نہیں ہے ۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان کے پریوار میں آج بھی کئی لوگ ہندو ہیں جن سے وہ ملتے ہیں اور اچھے رشتے ہیں۔ لیڈر نے کہاکہ جو لوگ کسی کاجبراً مذہب تبدیل کررہے ہیں ان پر کارروائی بھی ہورہی ہے ۔ بتادیں کہ محمد زماں خان بہار کے کیمور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ گزشتہ سال انہوں نے بی ایس پی کے ٹکٹ سے چین پور سے انتخاب لڑا تھا، لیکن بعد میں پھر وہ جے ڈی یو میں شامل ہو گئے۔ نتیش سرکار میں زماں خاں اقلیتی امور کے وزیر ہیں۔
زماں خاں نے یہاں تک کہہ دیا کہ گزشتہ سال اسمبلی انتخاب میں مسلمانوں نے جے ڈی یو کو ووٹ نہیں دیا، لیکن پھر بھی نتیش کمار مسلم طبقے سے امتیازی سلوک نہیں کرتےہیں اور ان کے مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں۔ بہار سرکار میں وزیر نےکہاکہ ان کو توقع تھی کہ بی جے پی مرکز میں جے ڈی یو کوٹے سے ایک سے زیادہ لوگوں کو وزیر کا عہدہ دے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وزیر نے کہاکہ نتیش کمار کی حکومت میں کوئی کسی کاجبراً مذہب تبدیل نہیں کرسکتا ہے۔ یہ کوئی پہلے والی لالو یادو کی سرکار نہیں ہے کہ جبراً کوئی بھی کسی کا بھی گھر قبضہ کرلے۔نتیش کمار کی حکومت میں قانون وانتظام بخوبی اپنا کام کررہا ہے۔
دوسری جانب وزیر زماں خاں پر پلٹ وار کرتے ہوئے آر جے ڈی لیڈر مرتیونجے تیواری نے کہاکہ زماں خاں بی جے پی کی گود میں بیٹھ کر تبدیلی مذہب کو لے کر علم بانٹ رہےہیں ۔ تیواری نے کہاکہ زماں خاں کو جو کام سونپا گیا ہے اس کے بجائے سارے کام کررہے ہیں۔ بی جے پی کی کلاس میں رہ رہ کر یہی سب چیزیں سیکھ رہے ہیں۔










