نئی دہلی :
اترپردیش میں کورونا وائرس کے درمیان کانوڑ یاترا کی اجازت دینے کے فیصلے کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا۔ جسٹس روہنٹن ایف ، نریمن کی صدارت والی بنچ نے مرکز اور اترپردیش سرکار کو نوٹس جاری کیا۔ کورٹ اس معاملے میں 16 جولائی کو سماعت کرے گی۔
عدالت نے کہاکہ بدھ کو اخبار میں سامنے آیاہے کہ اترپردیش نے کانوڑ یاترا جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے ، جبکہ اتراکھنڈ نے یاترا کی اجازت نہیں دی ہے۔ بنچ نے کہاکہ ’ ہم متعلقہ سرکاروں کا موقف جاننا چاہتے ہیں، بھارت کے شہری مکمل طور پر حیران ہیں، انہیں نہیں پتہ کہ کیا ہو رہاہے ۔‘
بتادیں کہ جب اتراکھنڈ حکومت نے کانوڑ یاترا رد کردی ہے تو وہیں یوپی سرکار نے کووڈ سیکورٹی پروٹوکول کے ساتھ اسے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے افسران کو یہ یقینی بنانے کا حکم دیاہے کہ اس سال کانوڑ یاترامیں محض کم تعداد میں ہی لوگ حصہ لیں اور کووڈ پروٹوکول ، خاص طور سے سماجی دوری کی سختی سے عمل آوری کی جانی چاہئے۔
ریاستی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر تیرتھ یاتریوں کے لیے آر ٹی پی سی آر جانچ رپورٹ لازمی کی جا سکتی ہے ۔
کانوڑ یاترا اس سال 25 جولائی سے شروع ہونے والی ہے، اس کانوڑ یاترا میں بھکت گنگا ندی سے مقدس گنگا جل لانے کے لیے اتراکھنڈ ، ہری دوار اور ملک کے دیگر حصوں میں جاتے ہیں۔
شمالی ریاستوں سے کانوڑ یوں کی شکل میں لاکھوں بھکت ہری دوار میں گنگا سے پانی لینے کے لیے پیدل یاترا کرتے ہیں اور پھر اس گنگا جل کو شیومندروں میں جاکر چڑھاتے ہیں۔
کورونا وبا کے مدنظر سی ایم یوگی نے حکم دیا ہے کہ یاترا میں کم سے کم لوگوں ہی کانوڑ یاترا میں حصہ لیں اور اس کے لیے کانوڑ سنگھوں سے اپیل کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ پڑوسی ریاستوں سے بات چیت کرکے یاترا کے لیے ضروری رہنما ہدایات جاری کی جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ تمام شیو مندروں ،شیووالیوںاور یاترا مارگوں میں صاف صفائی اور مناسب روشنی کا خصوصی انتظام کیاجائے ۔











