ملاحظات:مولانا عبدالحمید نعمانی-
اسے بآسانی دلائل و شواہد کے ساتھ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ عدم تشدد کی ہندوتو وادیوں نے بار بار اپنے فکر و عمل سے تردید و تغلیط کی ہے، اس کا ایک ثبوت ملک میں کیے جانے والے فرقہ وارانہ فسادات اور ان میں قتل و غارت گری اور تشدد کے واقعات ہیں، آج کی تاریخ میں ہندو، ہندوتو اور سناتن کے نام پر پورے ملک میں ہندو اکثریت میں گمراہ کن باتیں پھیلا کر اشتعال انگیزی، تشدد، قتل و غارت گری کی مہم زوروں پر ہے، مذکورہ تینوں الفاظ و اصطلاحات پر تفصیلی بحث و گفتگو کی ضرورت، گزرتے دنوں کے ساتھ مزید سوا ہوتی جا رہی ہے، اس کا بہتر آغاز، پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے کر دیا ہے، انھوں نے واضح الفاظ میں آر ایس ایس، بی جے پی اور نریندر مودی کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ متشدد اور ڈرانے، ڈرنے والے ہیں، جب کہ اصل ہندو نہ ہنسک (متشدد ) ہوتا ہے اور نہ ڈرانے، ڈرنے والا، ایسا شیو جی، بودھ مت، جین ازم، سکھ مت، عیسائیت، اسلام سب نے کہا ہے، یہ شیو کا ابھے مدرا سے ظاہر ہے، راہل گاندھی کی بات میں خاصا دم ہے، ہندو اساطیر کی پرتیک ودیا( علامتی علم )میں سماج کو زہر ہلاہل سے بچانے کے لیے سمندر منتھن سے نکلنے والے زہر کو شیو ، خود پی کر نیل کنٹھ بن گئے، راہل گاندھی کے تنقید و تبصرے نے ہندوتو وادی عناصر، سنگھ، بی جے پی، مودی وغیرہ کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے، ان کی، ہندو، ہندوتو پر ٹھیکیداری چھین کر اس کے نام پر سیاست اور کمائی کرنے سے محروم کرنے کا کام کیا ہے، یہ حالت ان کے لیے انتہائی اذیت ناک ہے ،اپنے متعلق کہیں باتوں کو پورے ہندو سماج سے جوڑ کر پیش کرنا، سراسر بے ایمانی اور فریب پر مبنی تیار کردہ منصوبہ بند مہم اور نفرت انگیز مذموم بیانیے کا حصہ ہے، تن تنہا راہل گاندھی کے وار کو ناکام بنانے کے لیے ،مودی، ساہ، سمیت ایک کے بعد ایک پارٹی لیڈر کو کھڑے ہو کر باتوں کے رخ کو ایک مخصوص سمت میں موڑنے کی کوشش کرنی پڑی، مخصوص عناصر اور پارٹی، تنظیم کے افراد پر تنقید و تبصرے کو پورے ہندو سماج پر تنقید و تبصرہ کا عنوان دے کر راہل گاندھی کو ایک بار پھر پپو اور ہندو مخالف باور کرا کر، ایک مخصوص قسم کا ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں رام مندر تحریک کی طرح، سیاسی فائدے کا بہاؤ ،مودی، بی جے پی اور سنگھ کی طرف ہو، وزیر اعظم مودی نے، خود کو ہندو کہنے والے” کچھ ” کو اپنی روایتی لیک پر چلتے ہوئے، بڑی چتورائی سے، سبھی ہندو اور پورے ہندو سماج کو متشدد اور ڈرانے، ڈرنے والا قرار دے کر راہل گاندھی کی بات کو بچکانہ بتانے کی کوشش کی ہے، اس میں بی جے پی کے دیگر لیڈروں نے ساتھ دے کر ملک میں ایک مخصوص قسم کا بیانیہ سیٹ کر کے راہل کو ہندو مخالف کے روپ میں پیش کیا ہے، ایوان بالا و ایوان زیریں سے لے کر باہر بھی بہت سے دیگر ہندوتو وادی عناصر اور رام مندر تحریک کے دوران میں سامنے آنے والے بہت سے دھرم گروؤں نے بھی بغیر زیادہ سوچے سمجھے بی جے پی راہ پر چلنے کی کوشش کی ہے، وشو ہندو پریشد وغیرہ تو سنگھ کی ذیلی معاون تنظیموں میں شامل ہے ہی، دھرم گروؤں کا بھی مودی جی کے” جز۶ ” کو” کل” اور "کچھ: کو سب بنا دینے کے بیانیے میں شامل ہو جانا افسوس ناک اور ایک طرح سے مذہبی طبقے کے فکری و نظریاتی زوال کا اظہار اور سماجی لحاظ سے تشویش ناک بات ہے، ان مبینہ دھرم گروؤں میں سے کئی سارے مسلمانوں کی نسل کشی کی باتیں بھی کرتے رہے ہیں، تاہم یہ حقیقت ہے کہ یہ کل کے مقابلے جز۶ اور سب کے سامنے کچھ ہی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس طرح کے دھرم گروؤں کے سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند اور آل انڈیا ملی کونسل وغیرہ تنظیموں کو اب بہت سوچ سمجھ کر ہی کام کرنا ہوگا، اپنے پروگراموں میں آچاریہ پرمود کرشنم، رام دیو، شری شری روی شنکر جیسے حضرات کو بلانے کا کوئی بہتر نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے، ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ سارے ہندو اور پورے ہندو سماج کا تشدد، نفرت پھیلانے اور ڈرانے، ڈرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایسا کسی بھی آئین و قانون والے مہذب سماج میں نہیں ہوتا ہے، کچھ افراد کی تشدد پسندی پر مبنی سر گرمیوں اور دہشت گردی کو پورے سماج اور اس کے مذہب سے جوڑ کر پیش کرنا، پوری طرح غلط ، ذہنی بگاڑ اور عملی فساد کی علامت ہے، جیسا کہ کچھ افراد کی غلط متشدد سرگرمیوں کو تمام مسلمانوں اور اسلام سے نتھی کر کے پیش کرنا پوری طرح جارحیت و ناانصافی اور بددیانتی ہے، "اسلامی دہشت گردی ” کی اصطلاح مکمل طور سے بے ایمانی اور خباثت پر مبنی ہے، اس غلط پروپیگنڈا کے نتیجے میں بہت سے بے قصور افراد بھی ہجومی تشدد اور اسٹیٹ دہشت گردی کا شکار ہو کر اپنی زندگی، جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور بے پناہ مالی، سماجی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، ا” سلامی دہشت گردی "کی اصطلاح باہر کے اسلام اور مسلم مخالف عناصر کی ایجاد ہے، لیکن کرنل پروہت جیسے بہت سے ہندوتو وادی عناصر اور ابھینیو بھارت کی تخریبی تھے ،آج کی تاریخ میں ان سب کے افکار کے تقابلی مطالعے سے کئی ساری باتوں کو بہتر طور سے سمجھا جا سکتا ہے، ٹیگور، وویکا نند، گاندھی جی، اقبال وغیرہم کی تحریروں اور بیانوں میں بہت سی عالمگیر اخوت و روحانیت کے پیغام اور انسانی اقدار و اخلاقیات کی مثالیں ملتی ہیں، آر ایس ایس، بی جے پی والے مختلف مواقع پر اپنی باتوں میں وزن پیدا کرنے کے لیے سوامی وویکا نند کا حوالہ دیتے رہتے ہیں، پارلیمنٹ کے حالیہ خطاب میں بھی وزیر اعظم مودی جی نے ہندو دھرم کے تناظر میں 131 سال پہلے امریکہ کے شگاگو شہر میں کیے سوامی جی کے اس خطاب کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اس دھرم سے آتا ہوں جس نے پوری دنیا کو سکھایا ہے "
شگاگو والا پورا خطاب سوامی جی کے کلیات میں موجود ہے، ہم نے اس کو کئی بار بہ غور پڑھا ہے، سچ تو یہ ہے کہ اس خطاب کی باتوں سے، بی جے پی اور مودی جی کے ہندو، ہندوتو کا کوئی خاص تعلق نہیں ہے، یہاں ہندو اور ہندوتو وادیوں میں فرق کرنا ضروری ہے، اس کے بغیر اصل حقائق تک رسائی نہیں ہو سکتی ہے اور نہ ان کو بہتر طور سے سمجھا جا سکتا ہے، گجرات فسادات کے قتل عام میں شامل ہندوؤں اور اس میں ملوث ہونے کے الزامات کے سبب مقدمات کی زد میں آنے والے پر تنقید کا بچاؤ، پورے ہندو سماج کے نام پر نہیں کیا جا سکتا ہے ایسا کرنا سراسر نا انصافی ہوگی، گجرات تشدد کے خلاف عدالتی چارہ جوئی میں انصاف پسند ہندوؤں کا خاصا نمایاں رول ہے، گزرتے دنوں کے ساتھ ہندو سماج کی بڑی اکثریت بھی، ہندو، ہندوتو اور سناتن کے نام پر سیاست کو اچھی طرح سمجھنے لگی ہے، ایسی حالت میں ان کے حوالے سے نفرت انگیز مہم کو زیادہ توجہ و کامیابی، ملتی نظر آتی ہے یہ مہم اب اتار پر ہے، کاٹھ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھ سکتی ہے









