لبنان کے علاقے ناقورہ میں حزب اللہ کے ایک اہم عہدیدار حسین یزبک اور ان کے تین ساتھی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔
حزب اللہ نے بدھ کو ایک بیان میں جنوبی لبنان میں رہ نما حسین یزبک سمیت اپنے چار ارکان کے قتل کئے جانے کی خبر کی تصدیق کی۔
انہوں نے بتایا کہ دیگر تین مرنے والوں میں ابراہیم عفیف، ہادی علی رضا اور حسین علی محمد غزالہ شامل ہیں۔
یہ واقعہ لبنانی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصراللہ کی تقریر کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "اگر اسرائیل لبنان کے خلاف جنگ چھیڑنے کا سوچتا ہے، تو ہماری لڑائی سرحدوں اور ضوابط سے ماورا ہو گی "۔انہوں نے کہا کہ حماس کے پولٹ بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کا قتل ایک بڑا اور خطرناک جرم ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ دشمن اس کی سزا سے نہیں بچ سکے گا۔
دو سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ لبنانی حزب اللہ گروپ کا ایک مقامی اہلکار اور ایران کے اتحادی گروپ کے تین دیگر ارکان بدھ کو دیر گئے جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
اس کے بعد بدھ کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد نو ہوگئی ہے اور یہ سب حزب اللہ کے ارکان بتائے جاتے ہیں۔
سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے، لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان روزانہ بمباری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔
اسرائیلی فورسز نے بے خوف و خطر انداز میں حماس رہنما کے بیروت میں قتل کے بعد غزہ پر بمباری اور حملے جاری رکھے ہیں۔ شمالی غزہ میں ایک پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل جس نے غزہ کی حکمران مزاحمتی فلسطینی جماعت حماس کے خاتمے کا اعلان کر رکھا ہے، نے ابھی تک صالح العاروری کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔
اگرچہ امریکہ وغیرہ کی طرف سے پچھلے کئی ہفتوں سے اسرائیل کو اب حماس قیادت کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کا ہی مشورہ دیا جارہا تھا۔ ایک امریکی اہلکارنے حماس رہنما کو بیروت میں ہلاک کیے جانے کے بعد بھی یہی کہا ہے کہ اسرائیل اب حماس رہنماؤں کو نشانہ بنائے گا۔اس تناظر میں حماس رہنما العاروری کی ہلاکت بھی جنگ کے غزہ سے باہر پھیلنے کے اشارے دیتی ہے۔
البتہ اسرائیلی فوج کے ترجمان ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے کہا ہے کہ اسرائیلی ہر طرح کے منظر نامے کے لیے تیار ہے۔ واضح رہے 57 سالہ العاروری حماس کے سات اکتوبر کے بعد پہلے بڑے سیاسی قائد ہیں جنہیں جلاوطی نے دوران نشانہ بنایا گیا ہے۔









