اردو
हिन्दी
مئی 7, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندی دوس کے موقعے پر چند باتیں

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ہندی دوس کے موقعے پر چند باتیں
181
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ـ اشعر نجم

آج ‘ہندی دِوس (یوم ہندی) ہے۔ ہندوستان اور کئی ریاستوں کی سرکاری زبان ۔ سننے میں کتنا اچھا لگتا ہے اور ہم میں سے اکثر اسی حوالے سے سوچتے ہیں کہ اردو کے سوا ہر جگہ خیریت ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی کے سوا سب خطرے میں ہیں۔ اب اردو اسکولوں کی طرح ہندی اسکول بھی خطرے میں ہیں کیوں کہ وہاں صرف وہی بچے پڑھنے جاتے ہیں جن کے والدین انھیں انگریزی اسکول میں پڑھانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔بیشتر ہندی اخبار بھی تقریباً اردو اخباروں کی طرح ایک کمیونٹی میں سمٹ چکے ہیں چونکہ ان میں سے بیشتر اپنی اُکھڑی ہوئی سانس کو بحال کرنے میں مصروف ہیں۔ جس طرح اردو کے بڑے پروفیسروں اور دانشوروں کے بچے انگریزی میڈیم میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں، اسی طرح پریم چند کے دونوں بیٹوں نے انگریزی میڈیم ہی سے تعلیم حاصل کی۔ اگیے، نرمل ورما، رگھوویر سہائے، راجیندر ماتھر، اشوک باجپئی اور وشنو کھرے جیسے معروف ہندی ادیبوں کے بچوں نے بھی انگریزی میڈیم سے ہی اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس لیے صرف یہ سمجھنا کہ اردو ہی زد میں ہے، محض دوسری ہندوستانی زبانوں کے احوال سے بے خبری کا ثبوت ہے۔ آج ہندی کے ایک مضمون پر نظر پڑی، اچھا لکھا ہوا تھا، اسی میں ہندی کے تناظر میں کچھ ایسی باتیں تھیں کہ پرانے زخم ہرے ہوگئے۔لیکن میں اس صورت حال کو صرف ہندی کے تناظر کی بجائے جب ہندوستان کی تمام زبانوں کے حوالے سے دیکھتا ہوں تو منظر نامہ تقریباً ایک جیسا ہی نظر آتا ہے۔

ذرا سوچیے کہ کیا وجہ ہے کہ اردو یا ہندی کا کوئی ادیب صرف فکشن لکھ کر اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا جب کہ اسی ہندوستان میں ارون دھتی رائے، وکرم سیٹھ اور چیتن بھگت جیسے ادیب صرف اپنے لکھے کی کمائی کھا رہے ہیں اور صرف کھا نہیں رہے بلکہ زندگی کی تمام جدید سہولتیں انھیں میسر ہیں۔ لیکن ایسا کیوں؟ کیا ہندی ، اردو اور ہندوستان کی دیگر علاقائی زبانوں کے لکھنے و الے ان سے کم اچھا لکھ رہے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ کئی علاقائی زبانوں کے ادیبوں اور بطور خاص کئی ہندی ادیبوں کے پاسنگ برابر بھی نہیں ہیں ۔ تو پھر وجہ کیا ہے؟ وجہ صرف ان کا انگریزی میں لکھنا ہے۔ نرمل ورما بلاشبہ ہندی کا بہت بڑا نام ہے لیکن انھیں بھی زندگی گزارنے کے لیے انگریزی میں لکھنا پڑتا تھا۔ راجیندر یادو صرف اپنی تحریروں سے زندہ نہیں تھے بلکہ ‘ہنس’ جیسا مقبول پرچہ بھی انھیں کمک پہنچا تا رہا جس کا اپنا کمرشیل دائرہ ہے۔ اُدے پرکاش جو آج ہندی کے سب سے معروف ادیب تسلیم کیے جاتے ہیں، انھیں زندگی گزارنے کے لیے کیا کیا کرنا پڑتا ہے، وہ ان کے قریبی لوگ اچھی طرح جانتے ہیں۔

جب ہم ہندوستانی ادب یا انڈین لٹریچر کہتے ہیں تو اس سے مراد عموماً یہی ہوتا ہے کہ ہندوستانی ادیبوں یا انڈین رائٹرز کے ذریعہ لکھا ہوا ادب۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ’انڈین لٹریچر‘ کی اصطلاح اس وقت سننے کو ملتی ہے جب کوئی غیر ملکی قاری ’انڈین رائٹرز کی لکھی ہوئی انگریزی کتاب‘ اپنےہاتھ میں اٹھاتا ہے یا جب ہندوستانی زبانوں کے کچھ منتخب مصنفین، رائٹرز فرینکفرٹ، پیرس، لندن، ماسکو وغیرہ جیسے شہروں میں اکٹھا ہوتے ہیں اور ان کی پذیرائی ہندوستانی ادیبوں یا انڈین رائٹرز کی حیثیت سے ہوتی ہے۔نتیجتاً انھی ہندوستانی ادیبوں کی تخلیقات کو ہندوستانی ادب ہونے کا فخر حاصل ہوا جو انگریزی میں لکھتے ہیں۔ پھر یہ ہوا کہ گزشتہ تیس سالوں میں ہندوستان کی تقریباً تمام زبانوں کے قارئین کا ایک ایسا بڑا حلقہ وجود میں آیا جس نے انگریزی کتابوں کے بازار کو گرم کیا۔ ہندوستان میں بڑے اور قومی سطح کے لٹریری فسٹیول انگریزی لکھنے والوں کو ہی دھیان میں رکھ کر منعقد کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا جو دِکھتا ہے وہ بِکتا ہے والے فارمولے نے ادبی سطحیت کو فروغ دیا جسے ہم آج یہاں بھوگنے پر مجبور ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ انڈین لٹریچر کی شناخت یہی اُتھلا پن بن چکی ہے۔ ظاہر ہے یہ گلیمر بھرے انگریزی لٹریری فیسٹیول ہندوستانی زبانوں کے ادیبوں کو اپنے بونے پن کا احساس دلانے کے لیے کافی ہیں۔ سلمان رشدی نے ۱۹۹۷ میں کہا تھا کہ ‘ورنا کولر’ زبانوں کے مقابلے میں انگریزی میں زیادہ اہم ادبی تخلیقات سامنے آ رہی ہیں۔ میرے خیال میں ہمارے معروف ادیب بھی کھل کر نہیں تو دبی زبان میں یہی سوچتے اور کہتے ہیں، حالاں کہ زیادہ تر ہندوستانی ادیبوں کی انگریزی میں لکھی کتابیں ’ائیر پورٹ لٹریچر‘ ہوتی ہیں۔

ہم سب مررہے ہیں،رفتہ رفتہ،تھوڑا پہلے میں، تھوڑا بعد آپ، ہندی اردو کا جھگڑا ہم بعد میں نمٹا لیں گے لیکن جھگڑنے کے لیے بھی دونوں کا زندہ رہنا ضروری ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN