اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اتراکھنڈ کے یو سی سی پر ایک نظر

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
68
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مولانا محمود احمد خاں دریابادی

اتراکھنڈ میں اینٹی مسلم کوڈ بل جس کو یونیفارم سول کوڈ ( یوسی سی) بل کہتے ہیں پاس ہوگیا، کہنے کو تو اسے یکساں کہاجارہا ہے، مگر کچھ لوگ خاص کر قبائلیوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ( بھاجپا کے عقلمندوں کی یکسانیت ایسی ہی ہوتی ہے) ـ حالانکہ ایک ملک ایک قانون کی دہائی ہمیشہ دی جاتی رہی ہے، اس کے باوجود شادی میں الگ الگ طبقات کے رسوم و رواج ( پرسنل لاء) کا لحاظ رکھا گیا ہے، مثلا شمالی ہندوستان میں ماما بھانجی کی شادی نہیں ہوسکتی، مگر جنوب میں ایسی شادیوں کو بہت مبارک سمجھاجاتا ہے، اسی طرح کہیں سات پھیرے، کہیں ورمالا وغیرہ کے ذریعے شادی کا بندھن قائم ہوتا ہے ـ  اترا کھنڈ والےیکساں سول کوڈ میں ایسے رسوم رواج کو یکساں نہیں کیا گیا، یعنی جہاں جس طرح شادیاں ہوتی ہیں اُسی طرح ہوتی رہیں گی ـ( پھر بھی اس بل کویکساں سول کوڈ ہی کہا جارہاہے، ہے نا تعجب کی بات ؟)………….  وہ تو خیر ہوئی کہ ہندووں میں الگ الگ علاقوں کی یہ الگ الگ رسمیں ہیں اگر یہ نہ ہوتیں تو شاید طلاق کی طرح مسلم نکاح کی رسم کو بھی ختًم کردیا جاتا، ……….. اس قانون کی ایک دفعہ یہ بھی ہے کہ ہندو ہو یا مسلمان سب کے لئے شادی کا رجسٹریشن ضروری ہے ورنہ بھاری جرمانہ لگے گا، زبانی طلاق سسٹم ختم کردیا گیا ہے، ایک طلاق  ہو یا تین عدالت کے ذریعئے ہی نافذ ہوگی ـ یاد کیجئے جن دنوں تین طلاق ختم کرنے کا قانون زیر بحث تھا اس وقت کچھ لوگ فقہی مباحث کا سہارا لے کر تین طلاق ختم کرنے پر خوشی کا اظہار کررہے تھے، تب بھی ہم نے کہا تھا کہ زیادہ خوشی کا اظہار کرنے کی ضرورت نہیں حکومت کا ارادہ صرف تین طلاق ختم کرنے کا نہیں بلکہ یہ ہم سے طلاق کا حق ہی چھیننا چاہتی ہے چنانچہ اتراکھنڈ میں یہ حق چھین لیا گیا، جلد ہی دوسری ریاستوں میں بھی چھیننے کی تیاری کی جارہی ہے ـ جب کہ یہ اور اس بل میں درج دیگر دفعات بھی قران وحدیث کے صریح خلاف ہیں ـ ………… قران حدیث ہمارے مذہب کی بنیاد ہیں، دستور ہند کی دفعہ ۲۵ ہمیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی گارنٹی دیتی ہے ـ ( مگر بھاجپا حکومت میں دستور وستور کی کوئی حیثیت نہیں رہی مودی جی جو فرمادیں بس وہی دستور ہے
  اس قانون کے نفاذ کے بعد شاید شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 جس کے تحت مسلمانوں کو اپنے پرسنل لاء پر عمل کی اجازت ملی ہے کالعدم ہوجائے، مگر کیا ہندو کوڈ بل اور ہندو غیرمنقسم خاندان کو ملنی والی رعایتیں بھی ختم ہوں گی؟  اگر نہیں تو کیوں؟  کیا یکسانیت اسی کا نام ہے کہ ایک طبقے کے غیر منقسم خاندان کورعایتیں دی جائیں اور دوسرا طبقہ ( مسلمان)  اس سے محروم رہے ؟
اس قانون میں حلالہ اور عدت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، اب بھاجپا کے مسلم دشمنی میں اندھے عقلمندوں کو کون سمجھائے کہ جب آپ نے تین طلاق پر پابندی عائد کردی تو اب کاہے کا حلالہ؟ ایک طرف تو اس قانون میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر ( مسلم غیرمسلم) عورت کو طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی اجازت ہوگی ـ اب پتہ نہیں بھاجپائیوں کے پاس کون سا پیمانہ ہوگا جس سے یہ پتہ چلے گا کہ طلاق کے بعد عورت نے شادی کی ہے یا حلالہ ! ( ہمیں لگتا ہے کہ یہ بھی مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا ایک حربہ ہوسکتا ہے کہ ہر مطلقہ کے دوسرے نکاح کے بعد پولیس اُس کے گھر پہونچ جائے کہ بتاو تم نے نکاح کیا ہے یا حلالہ؟ تھانے لے جاکر لاک اپ میں بند کرکے میاں بیوی دونوں کی ” پولیسیا” تواضع کی جائےـ) …….

اب رہا عدت کا معاملہ ! ہماری سمجھ شریف میں یہ نہیں آتا کہ عدت ختم کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ کیا حکومت ہر مطلقہ عورت کو اس بات کا پابند کرے گی کہ طلاق کے دوسرے دن ہی نکاح ثانی کرلے تاکہ عدت کے نام پر ایک دن کاوقفہ بھی نہ ہوپائے ـ ………… ان عقل مندوں کا شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ عدت دو قسم کی ہوتی ہے، عدتِ طلاق اور عدتِ وفات!  چونکہ یہ قانون مسلم غیر مسلم دونوں کے لئے بنا ہے تو کیا حکومت کسی ہندو ودھوا کو اس پر مجبور کرسکتی ہے کہ وہ شوہر کے مرنے کے بعد دوسرے ہی ہفتے میں کسی دوسرے شخص کے گلے میں ورمالا ڈال کراس کی بیوی بن جائے؟
اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وراثت کی تقسیم میں لڑکی اور لڑکے کا حق برابر ہوگا، اس پر تو ہندو بھائیوں کو بھی اعتراض ہوسکتا ہے اُن کے یہاں آبائی جائیداد خاص طور پر کاشت کی زمین میں لڑکیوں کا حق نہیں ہوتا، …………سب جانتے ہیں کہ اسلام میں لڑکیوں کا حق لڑکے کے مقابلے میں نصف ہوتا ہے،( اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں)  مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام میں لڑکی کو  یا کسی دوسرے وارث کو وصیت وغیرہ کے ذریعئے وراثت سے محروم نہیں کیا جاسکتا، مگر اس قانون میں مورث کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو وصیت کے ذریعئے کسی لڑکی یا لڑکے کو اپنی وراثت سے جزوی یا کلی طور محروم کردے، بلکہ مرنے والا اگر چاہے تو اپنی ساری اولادوں کو اپنی وراثت سے محروم کرکے کسی غیر آدمی کو بھی دے سکتا ہے ـ ایسے میں کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ لڑکے اپنے بوڑھے باپ پر  دباو بناکر لڑکیوں کو باپ کی وراثت سے محروم کرادیں، یا کوئی ایک دبنگ لڑکا یا لڑکی باپ پر پریشر بناکر ساری جائداد اپنے نام کرلے ـ ( واضح رہے کہ مجوزہ قانون کی اس کمزوری کا شکار صرف مسلمان ہی نہیں ہوں گے بلکہ ہندو ودیگر لوگ بھی ہوسکتے ہیں)
اس قانون کی ایک دفعہ ایسی بھی ہے جس میں عورت مرد کا بغیر شادی کے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا یعنی لیوان ریلیشن شپ والوں کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ تیس دن کے اندر رجسٹرار کے یہاں اپنا رجسٹریشن کرائیں ـ  مطلب یہ کہ ایک عورت مرد انتیس دن تک بلا کسی روک ٹوک کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں،اس دوران اگر پولیس وغیرہ پوچھے تو بتاسکتے ہیں کہ ابھی ہمارے تیس دن پورے نہیں ہوئے ـ تیس دن پورے ہونے سے پہلے اگر لڑکا لڑکی چاہیں تو تعلق ختم کرکے کسی دوسرے کے ساتھ جوڑی بنا سکتے ہیں ـ گویا ایک دو دن، ہفتے دو ہفتے سے لے کر انتیس دن تک جتنی چاہے جوڑیاں بدلئے قانون اس کی اجازت دیتا ہے ـ   اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح حکومت شادیوں کو مشکل بناکر بغیر شادی کے جنسی تعلقات قائم رکھنے کی ترغیب نہیں دے رہی ہے؟  کیا اس سے فحاشی اور جسم فروشی کی لعنت میں اضافہ نہیں ہوگا ـ ( یہ مسئلہ بھی صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ ہندوستانی کلچر جس میں ستی ساوتری کی بڑی اہمیت ہے پر یقین رکھنے والوں کو بھی غور کرنا چاہیئےـ )
اسی قانون میں لیوان ریلیشن شپ میں پیدا ہونے والی اولاد کو بھی حقیقی اولاد کی طرح کے حقوق دئے گئے ہیں، یعنی اس کو بھی وراثت میں برابر کا حق دیا گیا ہے ـ ( ہندؤں کو اس پر بھی سرکار سے احتجاج کرنا چاہیئے، اُن کے یہاں بھی ناجائز اولاد کو کچھ نہیں ملتا ـ)ہمارے قانون دانوں کو بنظر غائراس بل کا مکمل جائزہ لینا چاہیئے، ہم قانون کے جانکار نہیں ہیں تاہم اس بل کا سرسری مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس بل کا اصل مقصدتو مسلمانوں اور مسلم پرسنل لاء کو نشانہ بنانا تھا مگر شاید جلد بازی میں یہ دو دھاری تلوار ہندؤں اور دیگر طبقات پر بھی چل گئی ہے ـ

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر
خبریں

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

22 اپریل
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے
خبریں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

21 اپریل
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ
خبریں

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

21 اپریل
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN