نئی دہلی:سپریم کورٹ نےآج کہا کہ کثرت ازواج اور نکاح حلالہ کو آئینی چیلنج پیش کرنے والی عرضیوں پر پانچ ججوں کی بنچ سماعت کرے گی۔ اس معاملے پر پی آئی ایل داخل کرنے والوں میں سے ایک وکیل اشونی اپادھیائے کی طرف سے داخل جواب پر چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا نے کہا کہ معاملہ کی سماعت کے لیے پانچ ججوں کی ایک نئی بنچ تشکیل دی جائے گی۔ دراصل پرانی آئینی بنچ کے دو جج جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس ہیمنت گپتا سبکدوش ہو چکے ہیں، اس لیے بنچ کی از سر نو تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گزشتہ سال بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے کی طرف سے سپریم کورٹ میں کثرت ازواج اور نکاح حلال کے خلاف عرضی داخل کی گئی تھی۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ پانچ ججوں کی بنچ کے پاس مزید کئی اہم معاملے زیر التوا ہیں۔ ہم مزید ایک آئینی بنچ کی تشکیل کر رہے ہیں اور اس معاملے کو دھیان میں رکھیں گے اشونی اپادھیائے کے علاوہ کچھ مسلم خواتین نے بھی مسلم مردوں کے ایک سے زیادہ شادی کرنے اور نکاح حلالہ کے خلاف عدالت میں عرضی داخل کی ہوئی ہے۔ عرضی دہندگان میں نائسہ حسن، شبنم فرزانہ، ثمینہ بیگم وغیرہ شامل ہیں۔ ان سبھی نے کثرت ازواج اور نکاح حلالہ کو غیر آئینی اور ناجائز قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے








