انقرہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ملکی میڈیا نے بتایا کہ یہ بم دھماکہ اتوار کی صبح کیا گیا۔ پہلے مقامی میڈیا نے بتایا تھا کہ یہ دھماکہ دارالحکومت میں ترکی کی قومی پارلیمان کی عمارت کے قریب کیا گیا۔
پھر ترک وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ بم دھماکہ شہر میں وزارت داخلہ کے سامنے کیا گیا۔
وزیر داخلہ علی ییرلیکایا کے مطابق ایک حملہ آور نے خود کو وزارت داخلہ کے سامنے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جبکہ ایک دوسرا حملہ آور وہاں موجود پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار معمولی زخمی بھی ہو گئے۔
انقرہ میں یہ بم دھماکہ آج اس وقت کیا گیا، جب کچھ ہی دور واقع ملکی پارلیمان کی عمارت میں قومی قانون ساز ادارے کا گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد آج اتوار ہی کے دن اولین اجلاس شروع ہونے والا تھا۔
اس واقعے کے بعد ترک نشریاتی اداروں سے نشر کی جانے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ پولیس اہلکار اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ارکان متاثرہ علاقے میں ایک ایسی جگہ پر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھے، جہاں قریب ہی ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔
مزید تفصیلات ابھی موصول ہو رہی ہیں۔







