چنڈی گڑھ: عام آدمی پارٹی کامن سول کوڈ پر منافقانہ رویہ اختیار کررہی ہے ایک طرف اس کی حمایت کا اعلان کرتی ہے وہیں اس کے وزیر اعلیٰ مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے یکساں سول کوڈکی ضرورت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ایسی انتخابی حکمت عملی اپنائی ہے۔ وزیر اعلی مان نے کہا کہ ہمارا ملک پھولوں کے گلدستے کی طرح ہے۔ کیا آپ اسی رنگ کے پھولوں کا گلدستہ چاہیں گے؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرنی چاہئے اور یو سی سی پر عمل آوری کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہئے۔ سی ایم مان نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کسی بھی کمیونٹی کے رسم و رواج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے حق میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب اور ان کے رسوم و رواج کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سبھی سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ اگر تمام شہری سماجی طور پر برابر ہیں تو سول قوانین کا مشترکہ سیٹ لاگو ہونا چاہیے۔
شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) نے سی ایم مان کے اس بیان کو لے کر سی ایم مان کو نشانہ بنایا ہے۔ چونکہ عام آدمی پارٹی پہلے ہی یو سی سی پر قومی سطح پر اپنا موقف صاف کر چکی ہے۔ اے اے پی کے جنرل سکریٹری (تنظیم) سندیپ پاٹھک نے یو سی سی پر کہا تھا کہ پارٹی اصولی طور پر یو سی سی کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع تر مشاورت کی جانی چاہئے اور اتفاق رائے تک پہنچنا چاہئے







