نئی دہلی:(ایجنسی)
ملک کی تمام 45 یونیورسٹیوں میں داخلہ اب انٹرنس ٹیسٹ (CUET) کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس کا اعلان یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے پیر کو کیا۔ اب تمام مرکزی یونیورسٹیوں کے گریجویشن کورسز میں 12ویں نمبر کی بنیاد پر داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ یعنی میرٹ اب نہیں چلے گا۔ یو جی سی نے یونیورسٹی انٹرنس ٹیسٹ (CUET) کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس اصول کا اطلاق آنے والے تعلیمی سال (2022-23) سے ہوگا۔جولائی کے پہلے ہفتے میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسز میں داخلے کے لیے CUET کا انعقاد کرے گی۔
اس کا مطلب ہے کہ مختلف یونیورسٹیوں میں اہلیت کے معیار کے علاوہ 12ویں جماعت میں حاصل کردہ نمبر طلباء کے داخلے پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران جگدیش کمار نے کہا، ’’سال 2022-23 تعلیمی سال سے نیشنل ایگزامینشن ایجنسی انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسز کے لیے سی یو ای ٹی کا اہتمام کرے گی۔ تمام مرکزی یونیورسٹیوں کو اپنے کورسز میں داخلے کے لیے سی یو ای ٹی میں حاصل کردہ نمبروں پر غور کرنا ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ 45 مرکزی یونیورسٹیوں کو یو جی سی سے مالی امداد حاصل ہوتی ہے۔ جگدیش کمار نے کہا کہ سی یو ای ٹی کا نصاب این سی ای آر ٹی کے 12ویں جماعت کے نصاب سے ملتا جلتا ہوگا۔ سی یو ای ٹی میں سیکشن-ون اے، سیکشن- ون بی، عام امتحان اور کورس کے مخصوص مضامین ہوں گے۔ سیکشن ون اے لازمی ہوگا، جوکہ 13 زبانوں میں ہوگا اور امیدوار اپنی پسند کی زبان کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
جگدیش کمار نے کہا کہ طلبا کے پاس انگریزی، ہندی، اردو، آسامی، بنگالی، گجراتی، کنڑ، ملیالم، مراٹھی، اوڈیا، پنجابی، تمل اور تلگو میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار ہوگا۔ یو جی سی چیئرمین نے کہا کہ سی یو ای ٹی کا یونیورسٹیوں کی ریزرویشن پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس امتحان کے بعد کوئی مرکزی کونسلنگ بھی نہیں کی جائے گی۔
13 زبانوں میں امتحان
یو جی سی کے مطابق،سی یو ای ٹی ایک کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹ، 13 زبانوں میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ ہیں – انگریزی، ہندی، گجراتی، آسامی، بنگالی، کنڑ، ملیالم، مراٹھی، اوڑیا، پنجابی، تامل، تیلگو اور اردومیں ٹیسٹ لے جائیں گے ۔
یو جی سی کے چیئرمین نے کمار کہا کہ سی یو ای ٹی مرکزی یونیورسٹیوں کی داخلہ پالیسیوں کو متاثر نہیں کرے گا۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی یونیورسٹی مقامی طلباء یا اندرونی طلباء کے لیے ایک مخصوص فیصد محفوظ رکھتی ہے، تو وہ ایسا کرتی رہے گی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان طلبہ کو بھی جنرل سیٹوں پر داخلے کے لیے دیگر طلبہ کی طرح سی یو ای ٹی کے ذریعے حاضر ہونا پڑے گا۔ یونیورسٹیوں کی ریزرویشن پالیسیاں اور آرڈیننس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
ایسی یونیورسٹیوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) ہے جو اپنے داخلی امیدواروں کے لیے 50 فیصد نشستیں محفوظ رکھتی ہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، جہاں 50 فیصد نشستیں اقلیتی طلبہ کے لیے مختص ہیں۔ دریں اثنا،یو جی سی نے بین الاقوامی طلباء کو سی یو ای ٹی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ کمار نے کہا، بین الاقوامی طلباء کو پرانے اصولوں کی بنیاد پر داخلہ جاری رکھا جائے گا۔
موسیقی، پینٹنگ، مجسمہ سازی اور تھیٹر سمیت بنیادی عملی مہارت پر مبنی کورسز کے لیے، یونیورسٹیوں کو سی یو ای ٹی کے ساتھ عملی امتحان یا انٹرویو لینے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں ایسے کورسز کے لیے عملی امتحانات اور انٹرویوز کو کچھ اہمیت دے سکتی ہیں۔ مزید برآں، گریجویشن کے داخلوں کے لیے کوئی مرکزی کونسلنگ نہیں ہوگی اور ضرورت پڑنے پر یونیورسٹیوں کو اپنی کونسلنگ کرنے کی اجازت ہوگی۔
داخلہ امتحان کے خاکہ کی وضاحت کرتے ہوئے کمار نے کہا کہ ساڑھے تین گھنٹے کا امتحان دو مرحلوں میں منعقد ہوگا، اور پرچہ 12ویں جماعت کے NCERT کے نصاب پر مبنی ہوگا۔ امیدواروں کو متعدد انتخاب دیے جائیں گے۔ امتحان کے پہلے مرحلے میں، امیدوار زبان کے امتحان کے لیے حاضر ہوں گے جس کے لیے انھیں ایک اہم انتخاب دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ، انہیں ایک عام امتحان کے ساتھ ساتھ دو ڈومین مخصوص امتحانات میں شرکت کرنا ہوگی۔
دوسرے مرحلے میں امیدوار چار مزید ڈومین مضامین میں شرکت کر سکتے ہیں۔ امیدوار امتحان کے دوران ڈومین کے مضامین کی تعداد کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ وہ 27 مضامین میں سے چھ ڈومین مضامین جیسے اکاؤنٹنسی، بیالوجی، بزنس اسٹڈیز، کیمسٹری، جغرافیہ، تاریخ، معاشیات، ریاضی کے لیے حاضر ہوسکتے ہیں۔










