لکھنؤ :(ایجنسی)
یوپی اسمبلی انتخابات کے بعد ایس پی کے کچھ مسلم لیڈر اکھلیش یادو سے ناراض بتائے جاتے ہیں۔ ایس پی سربراہ پر مسلمانوں سے جڑے مسائل پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام ہے۔ اس سب کے درمیان 16 اپریل کو اکھلیش نے لکھنؤ کے عیش باغ میں واقع عیدگاہ میں افطار پارٹی میں شرکت کی۔ مانا جا رہا ہے کہ ایس پی کے قومی صدر مسلمانوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایس پی ان کے ساتھ ہے۔
افطار پارٹی کے ایک دن بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے اکھلیش کو خبردار کیا کہ اگر وہ اسی طرح خاموشی اختیار کرتے رہے تو ان کا سیاسی وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ بتا دیں کہ اکھلیش پر ماضی میں کئی مسلم لیڈروں نے الزام لگایا ہے کہ وہ مسلمانوں پر کی گئی کارروائی کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔
کمال فاروقی نے کہا، ’’سچ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ’سیاسی نیپکن‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسلم سماج کو یہ سوچنا چاہئے کہ کیا انہوں نے ایسی پارٹیوں کو ووٹ دینے کا ٹھیکہ لیا ہے، جو ان کے لئے آواز نہیں اٹھاتی؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اگر ایس پی 100 سے زیادہ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے تو اس میں مسلم کمیونٹی کا بڑا حصہ ہے۔
فاروقی نے کہا کہ اگر اکھلیش یادو کو اس کا احساس نہیں ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے نہیں بولتے ہیں تو ان کا سیاسی وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایس پی کا یہ رویہ جاری رہا تو مسلمان کوئی اور راستہ تلاش کریں گے۔
بتادیں کہ یوپی میں یوگی حکومت کی واپسی کے بعد بلڈوزر کی رفتار برقرار ہے۔ اس کارروائی میں کئی مسلم لیڈروں کے خلاف بلڈوزر چلنے کی کارروائی ہوئی ہے۔ مسلم لیڈروں کا الزام ہے کہ اکھلیش یادو اس طرح کی کارروائی کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔
بتادیں کہ سنبھل سے ایس پی ایم پی شفیق الرحمن برق نے اکھلیش کے خلاف کہا ہے کہ ایس پی مسلمانوں کا کوئی کام نہیں کر رہی ہے۔ اسی دوران اعظم خاں کے میڈیا انچارج فصاحت علی خاں نے الزام لگایا کہ مسلمانوں نے اکھلیش اور ملائم سنگھ یادو کو یوپی کا سی ایم بنایا لیکن اعظم خاں کو اپوزیشن لیڈر نہیں بنایا۔ فصاحت نے کہا کہ اعظم خاں کی ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان سیاسی طور پر یتیم ہو گئے ہیں۔










