نئی دہلی: (آر کے بیورو)اوکھلہ سے ایم ایل اے اور عام آدمی پارٹی کے دبنگ لیڈر امانت اللہ خان نے آج کیجریوال سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں چھاپے کے دوران پیش آنے والے واقعہ کی جانکاری دی۔ امانت اللہ خان نے کہا، "میں نے (سی ایم اروند کیجریوال) کو بتایا کہ کل کیا ہوا، انہوں نے ہمارے موبائل فون چھین لیے اور 12 گھنٹے تک وہاں رہے، وہ 2016 میں درج ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں آئے تھے، جس میں سی بی آئی نے پہلے ہی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ کوئی بدعنوانی نہیں ہے، وہ (ایجنسیاں) صرف بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتی ہیں۔ نے سی ایم اروند کیجریوال) نے ملاقات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولا۔ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ’’تمام فائلوں کی جانچ ہوئی تھی، ایک پیسے کا بھی گھوٹالہ نہیں نکلا۔ دو سال سے ہمارے سینئر لیڈروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ منیش سسودا کے خلاف ثبوت نہیں ملے۔ وزیر اعظم مودی عآپ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ‘‘
کیجریوال نے مزید کہا، ’’ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف فرضی مقدمے چل رہے ہیں۔ مودی کے کاموں اور الفاظ میں تکبر ہے۔ مودی نے ملک کا ماحول خراب کر دیا ہے۔ ہر کوئی ان سے خوفزدہ ہے۔ وزیر اعظم عام آدمی پارٹی کو کچلنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ 2015 میں جیسے ہی ہماری حکومت بنی، شنگلو کمیٹی بنائی گئی، 400 فائلوں کی جانچ کی گئی لیکن کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔ اب تک جتنے بھی فیصلے آئے ہیں، ان میں کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔ اب تک جو بھی فیصلے سنائے گئے ہیں وہ تمام ہمارے حق میں رہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا، "پچھلے دو سالوں میں انہوں نے ہمارے وزراء اور بڑے لیڈروں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا، گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں منیش سسودیا کے معاملے میں ہوئی سماعت میں، جج بار بار کہہ رہے تھے کہ کوئی ثبوت نہیں ہے، کو ثبوت تو پیش کریں۔ میں مودی جی کو چیلنج کرتا ہوں، اگر آپ کو ایک پیسے کی بھی کوئی چیز ملی ہے تو بتائیں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ اگر آپ کو کچھ مل جاتا تو آپ مجھے چھوڑ دیتے؟‘‘








