نئی دہلی (ایجنسی)
اپنے خاص سیاسی جھکاؤ اور نظریہ کے لیے معروف ملک کے سب سے بڑے ہندی اخبار دینک جاگرن نے سنسنی خیز خبر دی ہے جس نے ماہ رمضان میں اوکھلا کے باشندوں کے ماتھے پر شکن ڈال دی ہے۔دینک جاگرن آن لائن میں22اپریل کو شائع وی کے شکلا اور سنتوش کمار سنگھ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر پوری کے بعد اب (مسلم اکثریتی علاقہ) شاہین باغ اور اوکھلا میں نگر نگم کا بلڈوزر چلے گا ۔اس کے لیے ساؤتھ دہلی میونسپل کارپوریشن نے پوری تیاری کرلی ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے دعویٰ کیا گیا ہے اوکھلا- شاہین باغ سمیت چھ علاقوں میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی دراندازوں کی جانکاری ملی ہے ،جنھوں نے سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے اس کے علاوہ کباڑ کی آڑ میں غیر سماجی سرگرمیاں بھی ہورہی ہیں، اس کارروائی سے جرائم پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔
اسی کے ساتھ بی جے پی نے روہنگیائی اور بنگلہ دیشی دراندازوں کو ملک سے بھگانے کے لیے مہم چلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کیجریوال سرکار نے الزام لگایا تھا کہ جہانگیر پوری میں بی جے پی نے روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں کو بسایا تھا جنھوں نے فساد کرایا اس طرح سوچ سمجھ کر آپ نے بی جے پی کے ہاتھ میں ایک سیاسی ہتھیار دے دیا ہے۔










