ممبئی :(ایجنسی)
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بدھ کو داؤد ابراہیم منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں مہاراشٹر حکومت کے ایک وزیر نواب ملک کو گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد این سی پی لیڈر نواب ملک کو ممبئی کی خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں پیش کیا گیا۔ وہیں ان کی گرفتاری کے بعد مہاراشٹر میں سیاست گرم ہوگئی ہے۔ نواب ملک کی گرفتاری کے بعد این سی پی کے سربراہ شرد پوار اور سی ایم ادھو ٹھاکرے نے ہنگامی میٹنگ بلائی ہے۔
دریں اثنا، پی ایم ایل اے کی عدالت میں پیشی کے دوران، نواب ملک نے کہا، ’انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے اہلکار صبح میرے گھر آئے، مجھے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دفتر لے گئے، مجھے حراست میں لیا اور بعد میں میرا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے مجھے دفتر میں سمن کی ایک کاپی دی اور اس پر دستخط کرنے کو کہا۔‘ قبل ازیں گرفتاری کے دوران ملک نے کہا تھا کہ وہ جھکیں گے نہیں بلکہ لڑیں گے اور جیتیں گے۔
وہیں نواب ملک کی گرفتاری کے بعد بی جے پی نے ان سے استعفیٰ مانگ لیا ہے۔ ای ڈی کے ذریعہ نواب ملک کی گرفتاری پر بی جے پی لیڈر چندرکانت پاٹل نے کہا، ’آج مہاراشٹر حکومت کے ایک وزیر نواب ملک کو ای ڈی نے گرفتار کیا ہے۔ اب انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے، یہ مہاراشٹر کی روایت ہے۔
دوسری طرف ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے این سی پی لیڈر کی گرفتاری کی خبر پر بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ اکھلیش یادو نے کہا، ’جب بی جے پی گھبراتی ہے تو ایسی ایجنسیوں کو سامنے لا کر لوگوں کی تذلیل کرتی ہے، جھوٹے کیس ڈال کر جیل بھیجتی ہے۔ بی جے پی والے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کسی کی تذلیل کر سکتے ہیں۔‘
اس سے قبل یہ خبریں آئی تھیں کہ نواب ملک تفتیشی ایجنسی کے ساتھ تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ ان سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد این سی پی لیڈر کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد این سی پی کے کارکنان ای ڈی کے دفتر کے باہر جمع ہوئے اور نعرے لگانے لگے۔ بی جے پی نواب ملک کی گرفتاری پر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ دیگر اپوزیشن لیڈر این سی پی لیڈر کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور بی جے پی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔










