فیروزآباد:یوپی کے فیروز آباد میں چوری کے الزام میں جیل میں بند نوجوان کی موت کے بعد زبردست ہنگامہ ہوا۔ نوجوان کی جیل میں طبیعت خراب ہونے پر اسپتال میں دم توڑ گیا۔ اس کے بعد جیسے ہی دلت نوجوان کی لاش اس کے گھر پہنچی تو وہاں بھیڑ جمع ہوگئی اور پولیس کے ساتھ جھڑپ شروع ہوگئی۔ مشتعل ہجوم نے پولیس کی گاڑی کو آگ لگا دی جس کے بعد پولیس نے طاقت کا استعمال بھی کیا جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ اس کے بعد لوگ بھاگے اور کچھ پولیس والوں کو مارا۔
آج تک کی رپورٹ کے مطابق دلت نوجوان آکاش کی موت کے بعد جیسے ہی اس کی لاش ہمایو پور محلہ میں واقع اس کے گھر پہنچی تو مقامی لوگوں کا پولیس پر غصہ ہوگیا۔ انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا جس کے بعد پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج بھی کیا۔ اس دوران لوگ پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی بھی کرتے نظر آئے۔

پولیس گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
لاش کو دیکھ کر بے قابو ہجوم نے پولیس کی کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور لاش کی توڑ پھوڑ بھی شروع کر دی۔ لوگوں کے اس ردعمل کے بعد کئی تھانوں کی فورسز کو موقع پر طلب کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس اور مشتعل ہجوم آمنے سامنے ہو گئے اور لوگوں نے بھاگ کر پولیس والوں کی پٹائی کی۔
یہ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب فیروز آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں بند 25 سالہ دلت نوجوان آکاش کی اسپتال میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔ جیل میں طبیعت خراب ہونے پر انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ پولیس نے آکاش کو چوری کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ متوفی آکاش کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے اسے جیل بھیجنے سے پہلے بری طرح مارا پیٹا اور بری حالت میں جیل بھیج دیا، جہاں حالات مزید بگڑ گئے اور وہ اسپتال میں دم توڑ گیا۔
مقتول کے اہل خانہ نے تھانہ انچارج پر قتل کا الزام لگایا ہے۔ اس کے بعد جب پولس پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو لے کر ہمایو پور محلہ میں آکاش کے گھر پہنچی تو وہاں بھیڑ جمع ہوگئی اور پتھراؤ کرکے پولیس کو بھگا دیا۔
رپورٹ کے مطابق دلت برادری کے لوگ چاہتے ہیں کہ آکاش کی موت کے معاملے میں تھانہ ساؤتھ انچارج اور سہاگ نگر چوکی انچارج کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر کے ایم ایل اے منیش اسیجہ نے موقع پر پہنچ کر میڈیا کو بتایا کہ اس میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں نے آکاش کی لاش کو دیکھا تو اس کی ناک سے خون آرہا تھا۔
آخری خبر ملنے تک اس کا صبح تڑکے انتم سنسکار کردیا گیا اے ڈی ایم اپنے ہاتھوں سے ورثا کو پانچ لاکھ کا چیک سونپا ۔کشیدہ حالات دیکھتے ہوئے چپے چپے پر پولیس تعینات کردی گئی ہے (ان پٹ اور تصاویر آج تک )









