چنئی: اسلامو فوبیا کا بخار ان دنوں خوب چڑھا ہے حالانکہ کرناٹک میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوا مگر اسلام اور مسلم مخالف طبقہ اپنی سرگرمیوں میں لگا ہوا ہے فلم ‘دی کیرالہ سٹوری’ کے بعد اب ‘فرحانہ’ نام کی ایک اور فلم تامل ناڈو میں تنازع پیدا کر رہی ہے۔ ریاست کی مسلم تنظیموں نے ایک مسلمان خاتون پر توجہ مرکوز کرنے والی اس فلم پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
انگریزی نیوز پورٹل muslim mirror کی رپورٹ کے مطابق انڈین نیشنل لیگ نے فلم کو "اسلام مخالف” قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ اس میں مسلم کمیونٹی کو ایک خاص انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ آئی این ایل لیڈر ٹاڈا جے عبدالرحیم نے فلم کے خلاف چنئی پولیس کمشنر کے پاس فلم پر پابندی لگانے کی شکایت درج کرائی ہے۔فلم کے ٹیزر میں ایک مسلمان خاتون کو دکھایا گیا ہے جو برقعہ پہن کر دنیا بھر میں جنسی کام کرتی ہے۔ اپنی شکایت میں، INL لیڈر نے کہا، انتہا پسند ہندوتوا کی سیاست سے یہ اسلامی ثقافت کی توہین ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے احتجاج کی گرمی اس قدر شدید ہے کہ پولیس کمشنر شنکر جیول کو فلم میں ’فرحانہ‘ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ ایشوریہ راجیش کے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنی پڑی۔
مسلم منیترا کزگم کے رہنما ایم ایچ جواہر اللہ نے فلم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فلم ‘فرحانہ’ نہ صرف مسلم خواتین کی بلکہ ملک کی پوری خواتین برادری کی توہین ہے۔تروورور ضلع کے پرانے بس اسٹینڈ کے قریب مسلم منیترا کزگم پارٹی کی طرف سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ زبردست احتجاج کے پیش نظر کچھ سنیما ہالز نے تامل ناڈو میں فلم کی نمائش منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔







