تحریر:قاسم سید
ہفتے کی صبح جب غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر ہزاروں راکٹ فائر کیے جا رہے تھے، درجنوں مسلح فلسطینی جنگجو غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے درمیان سخت حفاظتی حصار والی سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
انہوں نے بلڈوزر سے دیواروں کو گرایا،تاروں کو کاٹ کر سمندر کے راستے پیرا گلائیڈر کے ذریعہ اسرائیل میں داخل ہوئے انہوں نے آج کی اصطلاح کے مطابق گھر میں گھس پر مارا۔،سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین اور خوفناک اسرائیل کی ملکی تحقیقاتی ایجنسی شن بیٹ، غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور طاقتور اسرائیلی فوج کے باوجود کسی کو اس حملے کا سراغ تک نہیں ملا۔ اس حملے میں1100 سے زائد اسرائیلی شہری و فوجی ہلاک اور1800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔150سے زائد اغوا ہیں ان میں کئی سینئیر فوجی افسر،میجر جنرل اور شہری ہیں جبکہ اسرائیل کے جوابی حملے میں ہزاروں فلسطینی شہید اور اس سے زیادہ زخمی ہو ئے ہیں جبکہ اسرائیلی بمباری میں لاکھوں بے گھر کردئیے گئے ہیں-یہ تعداد کم یا زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ جنگ میں سب سے پہلے سچ کا قتل ہوتا ہے۔
اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنی ہم آہنگی کے ساتھ یہ پیچیدہ حملہ اسرائیلیوں کی ناک کے نیچے ہوا جس میں ہزاروں راکٹ داغے گئے۔ دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا ،فوجیوں کو مارا شہریوں کو اغوا کیا اور وہ تباہی مچائی کہ اسرائیل اور اس کے حلیف برسوں تک سوچتے رہیں گے کہ آخر حفاظت کئی کئی مضبوط لیئر کو کیسے نیست و نابود کردیا-اب بھی اسرائیل کے کئی شہروں میں زبردست لڑائی کی خبریں ہیں -اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حماس نے غیر معمولی سطح کی فوجی کارروائی کی ہے۔ لیکن اسرائیل کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ حماس کی اپیل پر دوسرے ملکوں کو اس تنازعے میں شامل ہونے سے کیسے روکا جائے اور اس لڑائی کو مغربی کنارے تک پھیلنے سے کیسے روکا جائے۔کیونکہ لبنان کے ساتھ شمالی سرحد کے پار جدید ترین ہتھیاروں سے لیس حزب اللہ موجود ہے اور ایران اس کا پشت پناہ ہے –
اس وقت دنیا دو حصوں میں بٹ چکی ہے کچھ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں جن میں بھارت بھی شامل ہے کچھ حماس کے ساتھ ہیں جن میں ترکی ،سعودی اور ایران ہیں مگر ان سب کے ساتھ کچھ پہلو ہیں جو حماس کے حملوں سے اجاگر ہوئے ہیں-
مثال کے طور پر حماس کے شب خون اور بڑے پیمانے پر تباہی نے ایک طرف اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کے
“خوف ودبدبہ کی پول کھول دی وہیں اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم ،غرور اور گھمنڈ مٹھی بھر مزاحمت پسندوں نے پاؤں تلے روند ڈالا اور دنیا کو بتادیا کہ اسرائیل شیر کی کھال پہنے ہوئے ہے اندر سے کھوکھلا ہے ،اس کی گردن مروڑی جاسکتی ہے،ایک پہلو یہ بھی ہے “طوفان الاقصی” بزدل خوف زدہ عرب ملکوں کی قیادت کو خوف کی نفسیات سے باہر نکالنے میں مدد کرے گا۔
طوفان الاقصی نے منی ورلڈوار کے دروازے کھول دئے ہیں مگر ان ملکوں کو بھی اپنی پالیسی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرے گا جو اسرائیل کی طاقت سے مرعوب ہیں انہیں لگتا ہے کہ اقلیت کشی اور مخالفوں کی کمر توڑنے کے لئے اسرائیل ان کے لئے نجات دہندہ ہے۔
حماس کی کارروائیوں سے عالمی سیاست متاثر ہوگی بھارت کا کوریڈور بنانے کا منصوبہ کھٹائی میں پڑجائے گا لیکن سب سے بڑا اثر یہ ہوگا کہ سعودی عرب سمیت اسرائیل کو گلے لگانے کے لئے بے تاب عرب ملکوں کے قدم تھم جائیں گے ۔فلسطین کاز کو کنارے لگاکر تل ابیب سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی تیاری کرلی گئی تھی ۔سعودی بیان سے پسپائی کا اشارہ ملتا ہے ۔دراصل یہ فلسطینیوں کے وجود کی آخری اور فیصلہ کن لڑائی ہے جیسا کہ حماس نے کہا کہ بہت ہوچکا اب اور نہیں -اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کرنے اور اس کو مٹانے کا اعلان کیا ہے تو اسرائیل کو کئی فرنٹ سے گھیرنے کی تیاری ہے حزب اللہ جنگ میں کود چکا ہے ۔لبنان نے باہیں کھول دی ہیں سوچیں کیا کیا ہونے والا ہے ۔ سلامتی کونسل میں حماس کے خلاف قرارداد منظور نہیں۔ ہوسکے کیونکہ امریکہ کا اشاروں پر چین ،روس نے ناچنے سے انکار کردیا- روس کھل کر فلسطین کی حمایت میں آگیا ہے
سوویت یونین اور امریکہ کی گردن افغانیوں نے توڑی،کیا اسرائیل کے لئے اللہ کا کوئی فیصلہ ہوچکا ہے؟؟








