علی گڑھ:اتر پردیش میں جرائم کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اب موب لنچنگ بھی شروع ہو گئی ہے۔ علی گڑھ کے گاندھی پارک کے ماموں بھانجا علاقے میں محمد فرید عرف اورنگزیب (35) کو چوری کے شبہ میں ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ علی گڑھ پولیس نے چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے لیکن مجموعی طور پر معاملے کی لیپا ہوتی میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اورنگزیب اپنے دوست روہت سے ملنے گئے تھے اور چائے پینے کے بعد جب وہ وہاں سے نکل رہے تھے تو کچھ لوگوں نے دیکھ لیا اور اورنگزیب کو چور کہہ کر چلانا شروع کردیا۔ وہاں ایک ہجوم جمع ہوگیا اور اسے لاٹھیوں سے بے رحمی سے پیٹنا شروع کردیا۔ جس کی وجہ سے اورنگ زیب سیڑھیوں سے گر گیا۔ اس کے باوجود بھیڑ اسے بے رحمی سے مارتی رہی۔
اطلاع ملنے پر پولیس پہنچ گئی۔ پولیس زخمی اورنگزیب کو ہسپتال لے گئی لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ اس واقعے میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی کی بنیاد پر دیگر لوگوں کی شناخت کر رہی ہے۔
اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ ایس پی اور بہوجن سماج پارٹی کے کارکنوں نے مظاہرہ کیا اور ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ دونوں جماعتوں نے کہا کہ اس معاملے میں پولیس کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ادھر علی گڑھ پولیس کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ اسے شبہ ہے کہ نوجوان ان کے گھر چوری کرنے آیا تھا۔ حالانکہ علی گڑھ پولیس نے یہ نہیں کہا کہ اورنگ زیب کو محلے کے چوراہے پر مارا گیا ہے، لیکن اگر اسے گھر سے پکڑ کر مار دیا جاتا تو وہ نہ مرتا۔ لیکن اسے باہر مار دیا گیا، جبکہ اورنگزیب ملزم کے گھر تک نہیں گیا تھا۔(سورس:ستیہ ہندی)









