اتر پردیش کے علی گڑھ میں ایک مسلم لڑکی مسکان کی مشتبہ حالات میں موت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
بی بی سی ہندی نے یہ خبر دیتے ہوۓ بتایا کہ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی نے چار سال قبل دیپک نامی ہندو لڑکے سے شادی کی تھی۔
ماں شمیم نے دیپک پر اپنی بیٹی کے قتل کا الزام لگایا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے والد نعیم نے بتایا کہ صبح پولیس والوں نے مجھے بلایا اور تھانے لے گئے۔ تھانے گئے تو بتایا کہ تمہاری بیٹی نے خودکشی کر لی ہے۔ آپ پوسٹ مارٹم ہاؤس جائیں اور اس کی شناخت کریں۔ وہاں گئے اور پنچنامہ بھرنے کے بعد بیٹی کو دیا اور کہا کہ تم لوگ مٹی لگواؤ ، ہم تمہیں بتائیں گے کہ بیٹی کہاں سے لائے تھے
والد کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اہل خانہ کو کوئی اطلاع نہیں دی کہ ان کی بیٹی کی لاش پوسٹ مارٹم ہاؤس کیسے پہنچی۔
بی بی سی کے مطابق انہوں نے بتایا، ’’میری بیٹی دیپک نامی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ وہ نابالغ تھی، ہم نے اسے عدالت سے حاصل کیا لیکن پھر چھین لیا۔ یہ چار سال پرانی بات ہے۔ تب سے وہ اس (دیپک) کے ساتھ رہ رہی تھی۔
علی گڑھ پولیس نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ یہ معاملہ 19 جون کا ہے اور 20 جون کو خودکشی کی اطلاع پر جہیز موت کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔







