٭حرف حق؛پروفیسر اختر الواسع
لیجیے وہ خبر آہی گئی جس کا نہ جانے کب سے دھڑکا لگا رہتا تھا۔ علی گڑھ شہر کی میونسپل کارپوریشن نے اخباری اطلاعات کے مطابق اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کر لیا کہ علی گڑھ کا نام ہری گڑھ رکھا جائےگا۔اس فیصلے کا اتفاق رائے سے ہونا بھی ایک اختلافی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ کیا علی گڑھ شہر کی میونسپل کارپوریشن میں اس فیصلے کو پاس کرتے وقت کوئی بھی ایسا ممبر موجود نہیں تھا جو اس کی مخالفت کرے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ نام بدلنے سے بھی زیادہ تشویش کا سبب ہے۔
بظاہر اس دور ناپائیدار میں یہ بہت تعجب خیز نہیں کیوں کہ جب سرکاروں کے پاس کچھ کرنے کو نہ ہو تو وہ کچھ تو کریں گی۔ اتر پردیش کی سرکار کو خصوصاً یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے اپنے دور اقتدار میں جتنے شہروں، اسٹیشنوں، گاؤں وغیرہ کے نام بدلے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن نہ جانے کیوں یہ خیال تھا کہ علی گڑھ کا نام نہیں بدلا جائےگا اور اس خام خیالی کی وجہ یہ تھی کہ علی گڑھ کو ہندوستان ہی نہیں ساری دنیا میں یہ افتخار حاصل ہے کہ عالم اسلام میں جدید اور سیکولر تعلیم کا پہلا ادارہ ۲۴ مئی ۱۸۷۵ کووہیں قائم ہوا جو پہلے ’’مدرسۃ العلوم مسلمانان ‘‘ تھا جوفروری ۱۸۷۷ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج(M.E.O.College) کے نام سے پہچانا گیااور دسمبر ۱۹۲۰ میں جس کو دنیا نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے جانا۔ علی گڑھ اس طرح کوئی معمولی حیثیت کا شہر نہیں رہا بلکہ وہ سر سید احمد خان کے صبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل رہا ہے۔ یہاں سے صرف ہندوستان نہیں دنیا جہا ن کے طلبہ و طالبا ت نے تعلیم حاصل کی ہے۔ اپنے اپنے ملکوں کی تعمیر و ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہےاور صرف کل ہی نہیں آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ علی گڑھ کے پڑھے ہوئے ہندوستانی نژاد شہری کل کی طرح آج بھی ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیںاور ہندوستان اور علی گڑھ دونوں کے نام اور شہرت کو بلند کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ خود ہندوستان کی بات کیجیے تو اس ملک کی قومی زندگی کا کون سا شعبہ ہے جس میں علی گڑھ والوں نے کل اور آج اہم رول انجام نہ دیا ہو۔ کھیل ہو یا علم اور فلم، تجارت ہو یا صنعت، سیاست ہو یا سماجیات، کسی بھی زبان کی صحافت ہو یا شعر و ادب، تحقیق ہو یا تنقید اور یا پھر انتظامیہ، اپنا نام علی گڑھ والوں نے کہاں روشن نہیں کیا۔ علی گڑھ نے ملک کو ایک صدر جمہوریہ، دو خاتون اول، دو نائب صدر جمہوریہ، چھ وزرائے اعلیٰ، ان گنت مرکزی و ریاستی وزرا، گورنر دیے۔ آج بھی کیرالا کے گورنر عزت مآب عارف محمد خاں علی گڑھ کے نامور فرزندوں میں ہیں۔ غرض کس کس کے نام لیجیے۔
علی گڑھ کی ایک اور پہچان اس کی تالوں کی صنعت کی وجہ سے بھی ہے۔ علی گڑھ میں بنائے گئے تالے دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتے ہیں اور ہندوستان کے کسی شہر میں کسی بازار، گھر اور دکان کا تصورتو علی گڑھ کے تالوں کے بغیر کیا ہی نہیں جا سکتا۔ راقم الحروف جو علی گڑھ شہر میں پیدا ہوا، وہیں پلا بڑھا اور وہیں ثانوی سے لے کر اعلیٰ درجوں کی تعلیم حاصل کی۔ وہ ہمیشہ اس پر نازاں رہا کہ علی گڑھ علم، صنعت اور ادب میں اپنی نظیر نہیں رکھتا۔ لیکن کیا کیا جائے ان کی عقلوں کو جن پر تالے پڑ گئے ہیں کہ وہ علی گڑھ کے نام کو ہی بدلنے کے لیے آمادہ ہیں۔ وہ لوگ جو شہروں، اسٹیشنوں اور قصبوں کے ناموں کو بدلنے کے حامی ہیں وہ اس کا جواز ہمیشہ یہ پیش کرتے رہے ہیں کہ ناموں کی یہ تبدیلی پرانی روایات کی بازیافت ہے۔ جن شہروں کے یا قصبوں کے جو نام پہلے رکھے گئے تھے وہ کیوں کہ غیر ملکی حملہ آوروں نے بدل دیے تھے اس لیےبدلے جا رہے ہیں۔ مگر اتفاق سے علی گڑھ کے ساتھ یہ معاملہ بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ موجودہ علی گڑھ کا پرانا نام کول تھااور جس کا تذکرہ تاریخ ابن بطوطہ وغیرہ میں بھی ہے۔ یہاں کے ایک صوفی بزرگ جو عہد وسطیٰ میں یہاں بستے تھے، شاہ جمال صاحب، ان کے تذکرے میں بھی اس کا نام کول ہی ملتا ہے۔ اور آج بھی علی گڑھ ضلع کی صدر تحصیل کا نام کول ہی ہے جس کا صدر مقام پہلے علی گڑھ شہر میں بالائی قلعہ پر واقع جامع مسجد کے سامنے واقع کوتوالی کے ساتھ تھااور اب وہ علی گڑھ نمائش گراؤنڈ کے سامنے منتقل ہو گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر غیر ملکی حکمرانوں کو شہروں اور قصبوں کے غیر اسلامی ناموں سے اتنی چڑ ہوتی تو پھر رام پور، سیتا پور، شیو پوری جیسے نام کیوں کر نہ بدلے گئے ہوتے۔
ہندستانی تہذیب و ثقافت کا جو سماجی تنوع ہے وہ ہمارے شہروں اور قصبوں کے ناموں ہی سے ظاہر ہوتا ہے۔ آپ نام بدل سکتے ہیں لیکن تاریخ کو نہیں تبدیل کر سکتے۔ ہمارے ملک کی تاریخ اور تہذیب تو یہ ہے کہ تلسی داس جی نے اپنی مشہور زمانہ رامائن کی تصنیف مسجد میں رہ کر کی۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے رام کو امام ہند کہا۔ حضرت امیر خسرو نے ہندوستان جنت نشان کی عظمت کے ترانے گائے۔ چشتیہ صابری سلسلے کے نامور بزرگ شیخ عبد القدوس گنگوہی ہوں یارس کھان ہوں یا عبد الرزاق بانسوی، حسرت موہانی ہوں یا خواجہ حسن نظامی یہ سب شری کرشن سے اپنی عقیدت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ مسلمان بادشاہ جن پر آج شہروں کے نام بدلے جانے کا الزام لگایا جا رہا ہے انھوں نے مندروں، مٹھوں اور دیگر دھارمک استھلوں کو خطیر عطیات سے نوازااور ہم یہ مانتے ہیں کہ انھوں نے ایسا کر کے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اپنی رعیت میں بسنے والے ہر مذہبی طبقے کے معتقدات کا احترام ان پر واجب تھا اور اگر انھوں نے انھیں کچھ بھی دان کیا تو وہ ان کا راج دھرم تھا۔
آزادی کے بعد بھی ہندوستان میں یہ رواداری اور وضع داری برابر دیکھنے کو ملتی ہے۔ مرنے کے بعد شمشان گھاٹ لے جانے کے لیے ارتھیاں آج بھی مسلمان تیار کرتے ہیں اور ہندو انھیں استعمال کرنے میں کوئی تکلف اور پرہیز نہیں دکھاتے ۔ اسی طرح سے رام لیلا میں آج بھی راون اور اس کے ہمنواؤں کے وہ قد آدم پتلے جو دسہرے پر وجیہ دشمی کی علامت کے طور پر جلائے جاتے ہیں وہ بھی اکثر مسلمان ہی تیار کرتے ہیں اور اس پر کبھی عام مسلمانوں نے کوئی اعتراض بھی نہیں جتایا ہے۔
اتنا ہی نہیں بلکہ یہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ ہندوستان کے ہندوؤں میں خاص طور سے شمالی ہند میں جس فلمی بھجن کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے وہ فلم بیجو باورا کا بھجن ہے جسے لکھا شکیل بدایونی نے، موسیقی سے سجایا نوشاد علی نے اور اپنی آواز سے امر بنایا محمد رفیع نے اور وہ فلمی بھجن ہے ’’من ترپت ہری درشن کو آج‘‘ اور یہ معاملہ صرف ایک طرفہ نہیں ہے، فلم مغل اعظم میں سَور کوکلا لتا منگیشکر نے ’’بے کس پہ کرم کیجیے سرکار مدینہ‘‘ گایا اور ہر مسلمان کے دل میں اپنی جگہ بنائی۔
ان تمام باتوں کا تذکرہ اس لیے کیا گیا تا کہ وہ تنگ نظر، متعصب اور فرقہ پرست سوچ رکھنے والے ذہن شاید اب بھی کھل جائیں اور یہ جان لیں کہ شہروں کے نام بدلنے سے ان کی پہچان نہیں بنے گی بلکہ اس سے ہندوستان دنیا بھر میں بدنام ہی ہوگا۔علی گڑھ کو ہری گڑھ بنا دینے سے آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام نامی سے ایک شہر کو محروم کریں گے وہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کے لیے پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا تھا کہ’’ میںعلم کا شہر ہوں تو علی اس کا دروازہ ہیں‘‘ اور یہ کم اہمیت کی بات نہیں کہ علی گڑھ ہو یاحیدر آباد دونوں اپنی علمی وراثت اورتعلیمی اداروں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ آپ ان کا نام بدل کر کوئی کار خیر انجام دینے نہیں جا رہے ہیں بلکہ اپنے لیے اور ہندوستان کی عظمت کے لیے رسوائی کا سامان کر رہے ہیں۔
(٭مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ایمریٹس شعبۂ اسلامک اسٹڈیز ہیں)








