راجستھان کی ایک عدالت نے 2022 کے ‘سر تن سے جدا’ نعرہ کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے درگاہ کے مولوی سید گوہر حسین چشتی کو بری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانچ دیگر افراد کو بھی بری کر دیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے خلاف ایک احتجاجی ریلی میں مبینہ طور پر ‘سر تن سے جدا’ کا نعرہ لگایا تھا، پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے مبینہ بیان پرجیل سے باہر آکر حسین چشتی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرے کیس میں انصاف ہوا ہے۔
اجمیر درگاہ کے دروازے پر قابل اعتراض نعرے لگانے کا الزام
سال 2022 میں پیارے نبی کے خلاف توہین امیز بیان دینے پر بی جے پی سے نکالی گئی سابق لیڈر نوپور شرما کے خلاف مبینہ اشتعال انگیز تقریر کی گئی تھی۔ خواجہ معین الدین چشتی درگاہ کے دروازے پر نوپور شرما کے خلاف ‘سر تن سے جوڑا’ کے نعرے لگائے گئے۔ درحقیقت 2022 میں نوپور شرما پر پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کرنے کا الزام لگا تھا۔
فیصلہ چیلنج کریں گے:سرکاری وکیل
سرکاری وکیل غلام نغمی نے کہا کہ اجمیر درگاہ کے خادم گوہر چشتی، تاجم صدیقی، فاروق جمالی، ناصر، ریاض حسن اور معین کو عدالت نے بری کر دیا ہے۔ تمام ملزمان کو تمام دفعات سے بری کر دیا گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ اس حکم کی چھان بین کے بعد فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی۔ مقدمے کی سماعت اجمیر کے ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں ہوئی۔
واضح ہو مقدمہ درج ہونے کے بعد مرکزی ملزم گوہر حسین چشتی کو جولائی 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا۔(تصویر بشکریہ اے بی پی نیوز)









