ہریانہ پولیس نے نوح تشدد کے دوران نوح کے نلہڑ مندر میں پھنسی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے دعوؤں کی تردید کی ہے اور اسے "افواہ اور جھوٹی کہانی” قرار دیا ہے۔ ہریانہ کے ڈی جی پی نے بھی اس الزام کی تردید کی ہے کہ نوح تشدد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ادھر نوح میں بلڈوزر گھروں، ہوٹلوں اور دکانوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیکن پولیس ابھی تک مونو مانیسر اور بٹو بجرنگی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر پائی ہے۔ مذہبی یاترا میں اسلحہ اور تلواریں لانے والوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) ممتا سنگھ کے مطابق تصادم کے دوران خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا کوئی واقعہ نہیں ہوا کیونکہ وہ خود موقع پر موجود تھیں۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ممتا سنگھ نے کہا کہ ’’کل سے سوشل میڈیا پر ایک کہانی چل رہی ہے کہ جس دن بھکتوں نے نلہر مندر میں قیام کیا، اس دن کچھ خواتین بھکتوں کوعصمت دری جیسے بھیانک جرائم کا نشانہ بنایا گیا۔ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں۔ کہ یہ جھوٹ ہے، مکمل افواہ ہے۔” انہوں نے کہا کہ ایسی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اے ڈی جی پی نے کہا، "میں یہ باضابطہ طور پر کہہ رہہ ہوں کیونکہ میں اس پورے واقعہ کے دوران وہاں موجود تھی۔ کسی بھی خاتون کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ ہم نے پہلے ہی صاف کر دیا ہے کہ وہاں کیا ہوا تھا… ایسی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں تشدد سے متعلق واقعات کے سلسلے میں 216 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے 83 احتیاطی گرفتاریاں ہوئیں
دریں اثنا، ہریانہ کے ڈی جی پی پی کے اگروال نے واضح کیا کہ واقعات میں کوئی پاکستانی کنکشن نہیں ہے، جیسا کہ کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ اگروال نے کہا، "نہیں، ایسا کچھ نہیں ہے، فوری طور پر ردعمل ظاہر کرنا درست نہیں ہے۔ جو چیزیں ہمارے سامنے آئی ہیں، ہم ان کی تحقیقات کریں گے اور جو لوگ قصوروار ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔”










